سکیورٹی سخت، 70 زیر حراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں چودہ اگست کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں اور کوئٹہ میں تقریباً ستر مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان چوہدری یعقوب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چودہ اگست کے حوالے سے صوبے کے تمام شہروں میں تقاریب ہو رہی ہیں اور ماضی میں انھیں دنوں میں تخریبی کارروائیاں کی گئی ہیں جس وجہ سے اس مرتبہ سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں۔ بلوچستان میں کوئٹہ خضدار قلات گوادر اور حب حساس علاقے ہیں جہاں حفاظی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بعض علاقے جیسے ڈیرہ بگٹی میں سیاہ جھنڈے لہرائے جاتے رہے ہیں۔ کوئٹہ شہر میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے جہاں گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے ۔ کوئٹہ سے کوئی ستر کے لگ بھگ مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو ماضی میں ایسی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور یا ان پر پولیس کو شک ہے۔ انھوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو تفتیش کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ ادھر مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے قریب واقع نیو کاہان یا مری آباد کے علاقے سے کوئی تینتیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں سے بیشتر مزدور ہیں اور دہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ گزشتہ سال انہیں دنوں میں کوئٹہ میں دھماکے ہوئے تھے مچھ کے قریب ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا سبی کے قریب گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا اور کوہلو میں نو راکٹ داغے گئے تھے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ | اسی بارے میں ’پائپ لائن میں سب کا فائدہ ہے‘07 June, 2005 | پاکستان گیس پائپ لائن پر مذاکرات09 September, 2005 | پاکستان اوچ شریف دھماکہ: تحقیقات کا آغاز06 July, 2004 | پاکستان ’پاکستان پرامریکی دباؤ نہیں ہے‘12 March, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں گیس پائپ لائن دھماکہ20 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||