اوچ شریف دھماکہ: تحقیقات کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام نے اوچ شریف کے قریب سوئی گیس پائپ لائن پر دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے مینیجنگ ڈائریکٹر رشید لون کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں تخریب کاری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا اور کہا کہ ہو سکتا ہے یہ دھماکہ بھی گیس لائنوں پر اس سے پہلے ہونے والے حملوں کے سلسلے کی ہی ایک کڑ ی ہو۔ دریں اثنا جنوبی پنجاب میں واقع چار میں سے دو پاور اسٹیشن کو متبادل ذرائع سے گیس کی سپلائی جاری کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ منگل کی صبح جنوبی پنجاب میں ضلع بہالپور میں اوچ شریف کے پاس قدرتی گیس پنجاب لے جانے والی ایک بڑی پائپ لائن دھماکہ سے پھٹ گئی تھی اور گیس سپلائی معطل ہو گئی تھی۔ سوئی ناردرن گیس کے جنرل منیجر براۓ ٹرانسمیشن شارق ولید نے بی بی سی کوبتایا کہ یہ واقعہ صبح سات بجے اوچ شریف سے پانچ میل دور پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سے پنجاب کی طرف گیس لے جانے والی تین بڑی پائپ لائنیں گزرتی ہیں ان میں سے ایک میں آگ لگ گئی۔ بعد میں موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ تین بجے بعد دوپہر آگ پر قابو پا لیا گیا۔ جنرل منیجر نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا کیونکہ آگ بجھانے کے بعد ماہرین اس کا جائزہ لے کر اس بات کا تعین کرسکیں گے۔ جنرل منیجر نے کہا کہ اس پائپ لائن میں آگ لگنے سے کسی شہر یا صنعتی اور تجارتی صارف کو گیس کی فراہمی بند نہیں کی گئی۔ تاہم جنرل منیجر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی روکی گئی ہے جن میں کوٹ ادو پاور پلانٹ شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاور پلانٹس فرنس آئل بھی استعمال کرتے ہیں اس لیے کوئی بحران نہیں ہے۔ دوسری طرف سوئی ناردرن کے منیجنگ ڈائریکٹر رشید لون نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ چوبیس گھنٹے میں اس پائپ لائن کی مرمت مکمل ہوجاۓ گی۔ گزشتہ دو سال میں یہ گیس پائپ لائن میں آگ لگنے اور گیس کی فراہمی معطل ہونے کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ قدرتی گیس پاکستان میں ایندھن کا بڑا ذریعہ ہے اور صوبہ بلوچستان سے پورے ملک کو مہیا کی جاتی ہے جہاں پر گیس نکلنے کی جگہ پر آباد بگتی قبیلہ کا حکومت سے جھگڑا چل رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||