BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 June, 2004, 00:40 GMT 05:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی این جی: پاکستان تیسرے نمبر پر

گاڑیاں
پاکستان بھر میں بیس لاکھ سے زائد گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں
ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان بہت سے ملکوں کی فہرست میں تیسرے نمبرپر آ گیا ہے جہاں قدرتی گیس کو گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ارجنٹائن اور اٹلی وہ ملک ہیں جو اس فہرست میں پاکستان سے اوپر ہیں۔

سرکاری طور پر دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چلنے والی بیس لاکھ سے زائد گاڑیوں میں سے 25 فیصد سے زائد میں ایندھن کے طور پر پٹرول یا ڈیزل کے بجائے گیس استعمال کی جاتی ہےـ یہ گیس گاڑیوں میں منتقل کرنے کے لئے ملک بھر میں 500 سے زائد گیس سٹیشن کام کر رہے ہیں۔

ویسے تو پاکستان میں قدرتی گیس کا بطور گاڑیوں کے ایندھن استعمال کو اب ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے لیکن ابتدائی سالوں میں یہ صرف چند بڑے شہروں تک محدود تھا۔گزشتہ دو یا تین سالوں میں ملک بھر میں جگہ جگہ قدرتی گیس کے سٹیشن لگ چکے ہیں جن کے ذریعے قدرتی گیس گاڑیوں میں بھری جاتی ہے۔

قدرتی گیس کو گاڑیوں میں پٹرول کی جگہ استعمال کرنے سے پہلے اسے خصوصی مشینوں کے ذریعے ٹھنڈاکر کے دباؤ کے ذریعے گاڑیوں میں لگے سیلنڈروں میں منتقل کیاجاتا ہے ـ اس طرح سے گاڑیوں میں بھری جانے والی مائع شکل کی گیس ’کمپریسڈ نیچرل گیس‘ یا سی این جی کہلاتی ہے۔

سی این جی کو پٹرول کے نعم البدل کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ایک خصوصی پرزہ ’گیس کٹ‘ گاڑیوں میں نصب کیا جاتا ہے۔

ابتدا میں تو یہ گیس سٹیشن چھوٹے سرمایہ داروں نے بیرون ملک خصوصا اٹلی سے استعمال شدہ پلانٹس درآمد کر کے اپنے طور پر لگائے لیکن اس گیس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے تیل فروخت کرنے والی بڑی کمپنیوں کو بھی سی این جی کی فروخت پر مجبور کر دیا۔ اب شیل ، کالٹیکس اور پی ایس او جیسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک بھر میں قائم اپنے پٹرول پمپس پر گیس بھی فروخت کرتی ہیں ـ

پاکستان میں اس جدید ترین متبادل ایندھن کی کامیابی کی وجوہات کے بارے میں سی ـ این ـ جی کے ترقیاتی ادارے HDIP کے سربراہ ہلال رضا کا کہنا ہے کہ گیس کے ذخائر کی وافر دستیابی ، گیس انفراسٹرکچر کی موجودگی اور نجی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس منصوبے کی کامیابی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

سی این جی کی دو خصوصیات اسے پٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میں زیادہ پر کشش ایندھن بناتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ گیس پٹرول کی نسبت قریبا آدھی قیمت میں دستیاب ہے اور دوسرا یہ ماحولیاتی آلودگی سے بھی بہت حد تک بچاتی ہے ـ ابرار حفیظ جو ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم میں کام کرتے ہیں اس بارے میں کہتے ہیں کہ سی این جی پٹرول کے مقابلے میں انیس فیصد آلودگی فضا میں منتقل کرتی ہے جبکہ گیس کے استعمال سے گاڑیوں کے انجن کا شور بھی کم ہو جاتا ہے ـ

سی این جی پٹرول کے مقابلے میں ویسے سستا ایندھن تو ہے ، لیکن صارفین کو اس سے شکایات بھی ہیں ـ محمد امتیاز جنہوں نے اپنی کمرشل استعمال کی گاڑی میں سی این جی لگوا رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میدانی علاقوں کے لئے تو یہ گیس ٹھیک ہے لیکن پہاڑی علاقوں میں یہ ٹھیک کام نہیں کرتی کیونکہ گیس پر چلنے والی گاڑی زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد