’ کوئی بڑا کام ہونے والا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر جنرل مشرف مزید پانچ سال کے لیئے صدر رہے تو نہ صرف جمہوریت سے دور ہوجائیں گے بلکہ ملک کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے سید سجاد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ آگے چل کر پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہوں گے جس میں کوئی انتہائی سخت قدم اٹھایا جائےگا۔ سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یا تو پاکستان کا وجود خطرے سے دوچار ہو جائےگا یہ پھر مارشل لاء آئےگا اور آئین ختم کر دیا جائےگا۔ ان کے مطابق’ آنے والے وقت میں کوئی بڑا کام ہونے والا ہے اور یہ امریکہ کا ایجنڈہ ہے‘۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے مطابق پاکستان کا آئین آرمی کو سیاست میں آنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور یہ بات جمہوریت کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی کی چھتری کے نیچے جو سیاستدان ہیں وہ کہتے ہیں کہ صدر باوردی ہونا چاہیئے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر فوج ہوگی تو ان کی بھی دکان چلےگی کیونکہ اگر غیر جانبدارنہ انتخابات ہوں گے تو یہ لوگ نہیں جیت سکتے۔ سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے ملک کو مہنگائی اور لاقانونیت کے سوائے کچھ نہیں دیا ہے، موجودہ فوجی دور میں دوسری حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ لوگ مرے ہیں اور خود کش بمباروں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک طرح کا فوجی ایکشن لیا گیا ہے اور سندھ میں بھی کئی مسائل ہیں۔اگر سیاسی معاملات خراب ہوگئے ہیں تو انہیں سیاسی طرح سے حل کرنا چاہیئے کیونکہ انہیں فوجی ایکشن کے ذریعے نہیں سلجھایا جا سکتا اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے مطابق آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اس کو یہ کردار دینا ہے تو اس کے لیئے قانون سازی کی جائے اور پارلیمنٹ اسے یہ اختیار دے اور کا دائرہ اختیار طے کرے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی حکمرانوں کو پولیس پر بھروسہ نہیں ہے اس لیئے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی سے پولیس کا کام لیا جا رہا ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کی ایجنسیوں کے ہاتھوں حراست کے بارے میں سجاد علی شاہ نے کہا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی آرمی تک محدود ہوتی تھیں اب ان کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، اب یہ عوام میں آ کر سیاسی لوگوں کو بھی لے جاتی ہیں۔ انہیں تفتیش کرنے کا تو اختیار ہے اگر کسی نے کوئی جرم نہیں کیا ہے تو صرف سیاسی بنیادوں کی وجہ سے حراست میں رکھنا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کواس سلسلے میں موثر کردار ادا کرنا چاہئے،انہیں روکنا چاہیئے کہ وہ کیوں لوگوں کو اس طرح سے لے جاتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں۔ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے اور ایف آئی آر درج کی جائے کیونکہ سویلین کو فوجی قانون کے تحت نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ نہ ہی اس کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔ وزارت دفاع کی جانب سے عدالت میں دیئے گئے اس بیان پر کہ ان کا آئی ایس آئی اور ایم آئی پر آپریشنل کنٹرول نہیں ہے، سجاد شاہ کا کہنا تھا کہ آپریشنل کنٹرول اور انتظامی کنٹرول کیا ہے اس بارے میں عدالت جان سکتی ہے کیونکہ’لوگ تو اٹھائے گئے ہیں عدالتیں اس میں مداخلت کر سکتی ہیں‘۔ مسلم دنیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق اور اب لبنان پر حملہ کیا گیا ہے اس کے بعد شام اور ایران پر حملے کیئے جائیں گے اور ان کے بعد پاکستان کی باری ہے کیونکہ امریکہ اور مغرب مسلمان ممالک کو ترقی کرتا دیکھنا پسند نہیں کرتے اور خاص کر مسلمانوں کے پاس جوہری طاقت تو ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ | اسی بارے میں ’ریٹائرڈ جرنیلوں کا مشورہ غیر اہم ہے‘ 25 July, 2006 | پاکستان ’فوجی سربراہ کے عہدے پر سیاسی رنگ چڑھ گیا‘25 July, 2006 | پاکستان ’مشرف ملک توڑنے کے راستے پر‘: احمد فراز23 July, 2006 | پاکستان ’مشرف وردی اتار دیں‘23 July, 2006 | پاکستان دہشتگردوں کی فتح ہوئی ہے: مشرف20 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||