’بیروت میں دس دن خوف میں گزرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے جنوبی حصے اور بیروت میں سّتر کے قریب پاکستانی ابھی بھی پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ پاکستانی شہری شام سے روانگی کے لیئے سفری دستاویزات کے انتظار میں ہیں۔ شام کے دارالحکومت دمشق سے قطر ائرویز کی پرواز سے جمعرات کی صبح پشاور پہنچنے والے پاکستانی مسافروں انیس الرحمان اور سید روان نے ایئرپورٹ پر بی بی سی کو بتایا کہ بیروت اور شام میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو وہاں پر قائم پاکستانی سفارت خانوں کے تعاون سے ملک بھیجا جا رہا ہے۔ بونیر اور کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے یہ پاکستانی لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسرائیلی طیاروں نے بیروت پر حملہ کیا تو ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام لوگ جن میں پاکستانی اور انڈین بھی شامل تھے افراتفری کے عالم میں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ’ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیونکہ طیاروں سے پورے بیروت پر بمباری کی جارہی تھی۔ چار دن کے بعد ہم بیروت میں پاکستانی سفارت خانے پہنچے جہاں پر اور بھی پاکستانی پہلے سے موجود تھے وہاں سے پھر ہمیں سڑک کے ذریعے سے شام لے جایا گیا۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا ، نہ پیسے تھے نہ پاسپورٹ وغیرہ سب کچھ ہم بیروت چھوڑ آئے تھے‘۔ انہوں نے بتایا کہ شام میں پاکستانی سفارت خانے نے وہاں پر موجود تمام پاکستانیوں کے لیئے سفری دستاویزات تیار کیئے اور ان کے لیئے ٹکٹ بھی خریدے اور اب ان کوگروپوں کی صورت میں ملک بھیجا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ابھی بھی ڈیڑھ سو کے لک بھگ پاکستانی موجود ہیں جو سفری دستاویزات کے حصول کے انتظار میں ہیں۔سید روان کے مطابق ’ بدھ کے روز ہم چودہ پاکستانی دمشق سے پاکستان روانہ ہوئے تھے جن میں بارہ اسلام آباد اتر گئے جبکہ ہم دو پشاور پہنچے ہیں‘۔ پشاور پہنچنے پر یہ مسافرخاصے ہشاش بشاش نظر آرہے تھے۔ اگرچہ انہیں لینے کے لیئے ایئرپورٹ پر ان کا کوئی عزیز رشتہ دار موجود نہیں تھا لیکن اس کے باوجود دونوں مسافروں کے چہروں سے نظر آرہا تھا کہ وہ پاکستان پہنچنے پر خاصے خوش ہیں۔ بیروت سے شام جانے تک کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’دس دن تک ہم بموں اورگولیوں کی گرج اور خوف کے باعث سو نہیں سکے۔ خوراک کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں تھا۔ لوگ پانی پر گزارہ کرتے رہے لیکن جب ہم دمشق پہنچے تو وہاں پر پاکستانی ایمبسی نے ہمیں ہوٹل میں جگہ لے کر دی، ہمارے کھانے پینے کا بندوبست بھی کیا اور چند لوگوں کو سفارت خانے میں ٹہرایا گیا‘۔ ایک سوال کے جواب انہوں نے بتایا کہ بیروت میں وہ جس تعمیراتی کمپنی میں کام کرتے تھے اس کے انچارج نے ہمیں اپنے کام کے پیسے بھی نہیں دیئے۔ اس طرح اور بھی کئی پاکستانی تھے جن کے مزدوری کے پیسے افراتفری کی وجہ سے انہیں نہیں مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ صیح سلامت پاکستان پہنچ جائیں گے لیکن اللہ تعالی کی مہربانی اور گھر والوں کی دعا سے وہ اپنے وطن خیریت سے واپس پہنچ گئے۔ انہوں نے بیروت اور دمشق میں موجود پاکستانی سفارت کاروں کی تعریف کی اور کہنا کہ ان کی کوششوں سے وہ خیریت سے ملک پہنچے ہیں۔ | اسی بارے میں لبنان: پاکستانی اخبار عوامی سوچ کے عکاس18 July, 2006 | پاکستان حزب اللہ کے حق میں مظاہرے21 July, 2006 | پاکستان ’حملوں سےحزب اللہ کی حمایت میں اضافہ ہوا‘22 July, 2006 | پاکستان عبدالستارایدھی بیروت پہنچ گئے24 July, 2006 | پاکستان لبنان: پاکستان،ایران کا اظہارِ افسوس24 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||