BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 12:44 GMT 17:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حزب اللہ کے حق میں مظاہرے

گزشتہ چند دنوں میں پاکستان کے کئی شہروں میں لبنان پر حملوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں
جمعہ کی سہ پہر لاہور اور کراچی میں مختلف جگہوں پر مظاہرین نے اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے خلاف اور حزب اللہ کے حق میں مظاہرے کیے اور مسلمان حکمرانوں کے کردار پر تنقید کی۔

ایک بڑا مظاہرہ شیعہ طلبا تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) نے کیا۔ جمعیت اہل حدیث نے لارنس روڈ پر اور مسلم لیگ (نواز) کے کارکنوں نے پریس کلب کے سامنے مظاہرے کیے۔

آیی ایس او کے چار پانچ سو کارکن لاہور پریس کلب کے سامنے جمع ہوگئے اور انہوں نے ایک گھنٹے تک سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی۔ اس مظاہرہ میں نقاب پوش عورتوں کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

 حماس سنی مسلمانوں کی تنظیم ہے اور حزب اللہ شیعہ مسلمانوں کی لیکن دونوں اسرائیل کے خلاف متحد ہیں۔ اسرائیل کے خلاف سنی اور شیعہ مسلمانوں کا بے مثال اتحاد سامنے آیا ہے۔
امامیہ آرگنائزیشن کے قاسم رضا
مظاہرین امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے اور حزب اللہ اور اس کے قائد حسن نصراللہ کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے ایرانی صدر احمدی نژاد اور ایران کے روحانی و سیاسی پیشوا آیت اللہ علی خامنئی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مقررین نے مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کو ہدف تنقید بنایا۔ آئی ایس او کے رہنما منتظر مہدی نے کہا کہ اسرائیل بچوں اور عورتوں پر ظلم کررہا ہے جبکہ مسلم دنیا کے حکمران خاموش ہیں۔

امامیہ آرگنائزیشن کے رہنما قاسم رضا نے کہا کہ اس وقت جب اسرائیلی طیارے معصوم شہریوں پر بمباری کررہے ہیں عرب لیگ، او آئی سی اور اقوام متحدہ کو کچھ نظر نہیں آرہا۔

تنظیم کے ایک اور رہنما احمد رضا خان نے کہا کہ حماس سنی مسلمانوں کی تنظیم ہے اور حزب اللہ شیعہ مسلمانوں کی لیکن دونوں اسرائیل کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف سنی اور شیعہ مسلمانوں کا بے مثال اتحاد سامنے آیا ہے۔

مظاہرین نے منتشر ہونے سے پہلے سڑک پر اسرائیل اور امریکہ کے قومی پرچم نذر آتش کیے۔

لبنانی عوام سے یکجہتی کے لئے جمعہ کے روز کراچی میں بھی مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کئے گئے۔

کراچی میں مظاہروں کا انتظام شیعہ علما کونسل، پی پی پی شھید بھٹو اور سنی تحریک کی جانب سے کیا گیا تھا،جنہیں ایم ایم اے سندھ کے صدر مولانا اسدللہ بھٹو، قمبر عباس نقوی، شاہد غوری اور عزیز خان نے خطاب کیا۔

مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ سعودی حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی جارحیت سے لبنان اور فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹادینے کی سازش میں مصرورف ہےمگر دنیا میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے چیمپین کہلانے والے ممالک امریکہ اور برطانیہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرکے اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے افغانستان، پھر عراق اب لبنان کے خلاف جنگ مسلط کی گئی ہے یہ صورتحال جاری رہی تو کل پاکستان کے بھی باری آئیگی۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ، اسلامک کانفرنس اور عرب لیگ اپنے ہنگامی اجلاس طلب کرکے اپنا آئینی کردار ادا کریں اور اسرائیل کو اس کے عزائم سے روکیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمان امہ کو اس وقت تمام اختلافات بھلا کر اتحاد اور یکہتی کا اظہار کرنا چاہئے۔
مقررین نے نشتر پارک بم دھماکے اور علامہ حسن ترابی کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔

لبنان اسرائیل بحران
پاکستانی اخبار عوامی سوچ کے عکاس
 لبنانحزب اللہ کا ’جوا‘
حزب اللہ نےاس موقع پر اسرائیل کو کیوں چھیڑا؟
اسرائیل کا مقصد؟
لبنان پر حملوں سے اسرائیل کا مقصد کیا ہے؟
لبنان: تباہی، انخلاء
چہروں پر جھلکتا خوف
لبنانی بچہاسرائیلی بمباری
سات لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں: ریڈ کراس
وویک نے کیا دیکھا
بی بی سی کے وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد