کراچی: مشرف پر حملے کا ملزم بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کے ملزم اور شدت پسند تنظیم حرکت المجاہدین العالمی کے مبینہ رکن نوید الحسن کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج غلام علی سامٹیو نے بدھ کو نوید الحسن کی بریت کا حکم سنایا۔ چھبیس اپریل سنہ دو ہزار دو کو کراچی میں ایک کار بم دھماکے کے ذریعے صدر پرویز مشرف پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر عین وقت پر بم کے سوئچ نے کام نہیں کیا تھا۔ نوید الحسن کو نومبر دو ہزار چار میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے حملے میں استعمال ہونے والی سوزوکی گاڑی فراہم کی تھی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت اس سے قبل حملے کی سازش کے الزام میں حرکت العالمی کے امیر عمران، نائب امیر محمد حنیف اور خازن محمد اشرف کو آٹھ اکتوبر سن دو ہزار تین کو دس، دس سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر کراچی میں اس حملے کی کوشش کا انکشاف اس سازش کے ڈیڑھ ماہ بعد اس وقت ہوا تھا جب امریکی سفارتخانے پر خودکش حملے کے بعد حرکت العالمی کے امیر عمران، نائب امیر محمد حنیف اور خازن محمد اشرف کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ انہوں نے سفارتخانے پر حملے میں استعمال ہونے والی سوزوکی کو دھماکہ خیز مواد سمیت فلک منزل کے قریب کھڑا کیا تھا مگر عین وقت پر سوئچ نے کام نہیں کیا اور یہ حملہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ |
اسی بارے میں قاتل کی درخواست منظور15 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ: اپیل کی سماعت شروع22 March, 2006 | پاکستان مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے14 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||