BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 July, 2006, 04:58 GMT 09:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احمد ندیم قاسمی چل بسے

احمد ندیم قاسمی
احمد ندیم قاسمی لاہور کے متعدد ادبی رسالوں کے مدیر رہے
معروف شاعر، افسانہ نگار اور کالم نویس احمد ندیم قاسمی پیر کی صبح لاہور کے ایک ہسپتال میں مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ ان کی عمر تقریبًا نوے سال تھی۔


گزشتہ سنیچر کو انہیں سانس لینے میں دشواری کے سبب لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کیا گیا تھا اور عارضی تنفس فراہم کیا گیا تھا۔ تاہم پیر کی صبح ان کی حرکت قلب بند ہوگئی۔ ان کا جنازہ پیر کی شام پانچ بجے سمن آباد میں واقع ان کی رہا ئش گاہ سے اٹھایا جائے گا۔

انیس سو تیس کی دہائی میں ادبی سفر شروع کرنے والے احمد ندیم قاسمی شمال مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں بیس نومبر انیس سو سولہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام احمد شاہ تھا اور وہ اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ندیم ان کا تخلص تھا۔

انہوں نے اٹک (اس وقت کیمبل پور) میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے بی اے کیا۔ وہ کچھ عرصہ محمکہ ایکسائز میں اسسٹنٹ انسپکٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔

احمد ندیم قاسمی اس وقت کے بادشاہی مسجد کے امام مولانا غلام مرشد کے قریبی عزیز تھے جو انہیں لاہور لائے اور انہیں اس وقت کی شہر کی ادبی شخصیت غلام صوفی تبسم سے متعارف کرایا۔

احمد ندیم قاسمی نے لاہور کے متعدد ادبی رسالوں کی ادارت کی۔ انیس سو تینتالیس سے پینتالیس تک’ ادب لطیف‘ کے مدیر جبکہ انیس سو سینتالیس میں ’سویرا‘ کے چند ابتدائی شماروں کے مدیر بھی رہے۔ جب محمد طفیل نے ’نقوش‘ کا اجراء کیا تو احمد ندیم قاسمی اس کے مدیر بنے تاہم جلد وہ اس سے الگ ہوگئے۔
انیس سو تریسٹھ میں انہوں نے اپنے ادبی رسالہ ’فنون‘ کا اجراء کیا جو آج تک شائع ہوتا ہے۔

احمد ندیم قاسمی نے غزل اور نظم دونوں صنفوں میں شاعری کی

ادبی رسالوں کے ساتھ ساتھ وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے۔ وہ کچھ عرصہ امتیاز علی تاج کے رسالے ’پھول اور تہذیب نسواں‘ سے وابستہ رہے اور بعد میں ترقی پسند اردو اخبار ’امروز‘ کے لیئے فکاہی کالم لکھتے رہے۔ کالم نگاری میں وہ عبدالمجید سالک کو اپنا استاد مانتے تھے۔

احمد ندیم قاسمی کا کالم پنج دریا کے عنوان سے طویل عرصہ تک امروز میں شائع ہوتا رہا۔ بعد میں وہ اس اخبار کے مدیر مقرر ہوگئے لیکن جب انیس سو انسٹھ میں اس ادارے کو جنرل ایوب خان نے سرکاری انتظام میں لیا تو وہ اس سے الگ ہوگئے۔ تاہم اس کے لیئے ’عنقا‘ کے نام سے کالم لکھتے رہے۔

امروز کے بعد احمد ندیم قاسمی روزنامہ جنگ اور بعد میں کراچی سے نکلنے والے روزنامہ حریت میں کالم لکھتے رہے۔ ان دنوں وہ روزنامہ جنگ میں لکھتے تھے۔

وہ گزشتہ بتیس سال سے لاہو رمیں ادبی ادارہ مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر تھے۔

احمد ندیم قاسمی نے انیس سو پینتیس سے شاعری اور افسانہ نگاری شروع کی۔ وہ اردو ادب میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے۔

وہ انیس سو اننچاس میں مختصر مدت کے لیئے انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ انیس سو اکیاون میں احمد ندیم قاسمی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند بھی رہے۔

انیس سو چون میں انہوں نے انجمن کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اکتوبر انیس سو اٹھاون میں ایک سال انیس سو چون میںکے لیے وہ دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔ بعد ازاں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین سے بھی دور ہوگئے۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی حقیقت پسندانہ عکاسی ان کا امتیازی وصف قرار پایا۔

احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی حقیقت پسندانہ عکاسی ان کا امتیازی وصف قرار پایا

ان کے افسانوں میں میں چوپال، بگولے، سیلاب و گرداب، آنچل، آبلے، آس پاس، درو دیوار، بازار حیات، کپاس کا پھول، برگ حنا، گھر سے گھر تک، سناٹا، نیلا پتھر، گرداب اور طلوع و غروب شامل ہیں۔

قاسمی صاحب کے افسانوں میں گھر سے گھر تک، کنجری، رئیس خانہ، ست بھرائی بہت مشہور ہوئے۔

احمد ندیم قاسمی نے غزل اور نظم دونوں صنفوں میں شاعری کی۔ ان کی شاعری کے مجموعے جلال و جمال اور محیط مشہور ہیں۔ ان کی شاعری کے کلیات بھی شائع ہوچکے ہیں۔ دیگر مجموعوں میں شعلہ گل، دشت وفا اور رم جھم شامل ہیں۔

انیس سو باسٹھ میں ان کی ایک مشہور ہونے والی نظم کے چند مصرعے کچھ یوں ہیں۔

ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فنکار
ایک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں
میں تیرے سامنے انبار لگادوں
لیکن کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا

انہوں نے لاتعداد کتابوں کے فلیپ لکھے۔ ان کے تنقیدی مضامین کی کتابوں میں ادب کی تعلیم کا مسئلہ اور تہذیب و فن شامل ہیں۔

احمد ندیم قاسمی کی بیوی اور ایک بیٹی نشاط انتقال کرچکی ہیں۔ پسماندگان میں ان کا ایک بیٹا نعمان قاسمی اور بیٹی ناہید قاسمی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
اشفاق احمد انتقال کرگۓ
07 September, 2004 | پاکستان
اشفاق احمد کی موت پر رنج و غم
08 September, 2004 | پاکستان
تابش دہلوی انتقال کر گئے
23 September, 2004 | پاکستان
حنیف رامے انتقال کر گئے
01 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد