BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 July, 2006, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احمد ندیم قاسمی کے ماہ و سال

احمد ندیم قاسمی
احمد ندیم قاسمی نے انیس سو اڑتالیس میں ادبی میگزین ’سویرا‘ شروع کیا
احمد ندیم قاسمی بیس نومبر انیس سو سولہ کو انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام پیر غلام نبی تھا۔ انہوں نے اپنے گاؤں کے امام مسجد سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔

انہوں نے انیس سو اکیس میں انگہ پرائمری سکول میں داخلہ حاصل کیا۔ انیس سو چوبیس میں ان کےوالد انتقال کرگئے۔ والد کے انتقال کے ایک سال بعد انہوں نے اپنے چچا پیر حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور (موجودہ اٹک) میں رہنا شروع کر دیا اور وہاں کے گورنمنٹ مڈل سکول میں داخلہ حاصل کر لیا۔

احمد ندیم قاسمی نے انیس سو تیس اکتیس میں گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ میں داخلہ لیا۔ مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ایک نوحہ لکھا
جو لاہور کے روزنامہ سیاست میں شائع ہوا۔ انہوں نے اسی سال میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بہاول پور کے ایک کالج میں داخلہ لیا۔

انیس سو پینتیس میں احمد ندیم قاسمی نے پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے پاس کیا۔ انیس سو چھتیس سے اڑتیس کا عرصہ انتہائی غربت اور تنگ دستی کا زمانہ تھا لیکن انہی دِنوں اُردو کے کئی معروف ادیبوں شاعروں اور صحافیوں سے شناسائی حاصل ہوئی۔ کرشن چندر اور منٹو سے دوستانہ مراسم پیدا ہوئے۔

ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’چوپال‘ انیس سو انتالیس میں شائع ہوا۔ اسی برس محکمہ ایکسائز میں انسپکٹر کے طور پر بھرتی ہوئے۔ فلم ’دھرم پتنی‘ کے مکالمے اور گانے انہوں نے انیس سو چالیس میں لکھے لیکن یہ فلم کبھی مکمل نہ ہوسکی۔

انیس سو بیالیس میں نوکری سے انتہائی بیزار احمد ندیم قاسمی استعفٰی دے کر امتیاز علی تاج کے اشاعتی ادارے میں شامل ہوگئے۔ جہاں انہیں بچّوں کے رسالے ’پھول‘ اور خواتین کے میگزین ’تہذیبِ نسواں‘ کی ادارت کے فرائض سونپے گئے۔ وہ انیس سو تینتالیس میں معروف جریدے ’ادب لطیف‘ کے ایڈیٹر بنے۔

 انیس سو سینتالیس میں انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کے لیئے بہت سے قومی نغمے، ملی گیت اور حُبِ وطن کے موضوع پر فیچر اور ڈرامے تحریر کیئے اور تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب کو انہی کا لکھا ہوا اوّلین قومی نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا

’ادب لطیف‘ میں منٹو کی کہانی بُو کی اشاعت کے باعث انہیں انیس سو چوالیس میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نےانیس سو چھیالیس میں ادب لطیف کی اِدارت چھوڑ دی۔ اسی برس مجموعہ کلام ’جلال و جمال‘ شائع ہوا۔
اس سے پہلے شعری مجموعہ ’دھڑکن‘ اور تراجم کا ایک مجموعہ شائع ہو چکا تھا۔

ضلع سرگودھا میں اُن دِنوں یونینسٹ پارٹی کا بڑا زور تھا لیکن احمد ندیم قاسمی نے اس کے مقابل مُسلم لیگ کی تنظیم و توسیع میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔

اسی برس ریڈیو پاکستان پشاور میں سٹیشن ڈائریکٹر کے بہت اصرار پر وہاں سکرپٹ رائٹر کے طور پر ملازم ہوگئے۔ انیس سو سینتالیس میں انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کے لیئے بہت سے قومی نغمے، ملی گیت اور حُبِ وطن کے موضوع پر فیچر اور ڈرامے تحریر کیئے۔ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب کو انہی کا لکھا ہوا اوّلین قومی نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔

انہوں نے انیس سو اڑتالیس میں ادبی میگزین ’سویرا‘ شروع کیا۔ انیس سو اڑتالیس اور انچاس میں پشاور ریڈیو کی نوکری چھوڑ کر وہ لاہور واپس آگئے اور ادبی رسالے نقوش کی ادارت شروع کی۔ ترقی پسند ادیبوں کی انجمن کے لیئے
دِن رات کام کیا اور انجمن کی پاکستان شاخ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔

انیس سو اکیاون میں سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیئے گئے۔ انیس سو باون میں روزنامہ امروز میں چراغ حسن حسرت کی جگہ فکاہیہ کالم حروف و حکایات لکھنا شروع کیا۔

انیس سو ترپن میں انہوں نے روزنامہ امروز کی ادارت سنبھالی۔ حروف و حکایت اور اِدارت کا یہ سلسلہ چھ برس تک جاری رہا لیکن انیس سو اٹھاون میں مارشل لاء نافذ ہونے کے بعد ختم ہوگیا۔ اکتوبر انیس سو اٹھاون سے فروری انیس سو انسٹھ تک انہیں پھِر سے سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا۔

انیس سو ترپن سے انیس سو تریسٹھ میں وہ مختلف اخبارات اور رسائل میں کالم لکھ کر روزی کماتے رہے۔ انیس سو تریسٹھ میں انہوں نے اپنا ادبی رسالہ ’فنون‘ نکالنا شروع کیا۔ انیس سو چونسٹھ میں دشت وفا کی اشاعت، جِسے آدم جی ادبی انعام بھی ملا۔

انیس سو پچھہتر میں مجلسِ ترقی ادب کے ناظم مقرّر ہوئے۔ انیس سو اسی میں ستارہ امتیاز مِلا اور اگلے برس اُن کی کہانیوں کا پہلا انگریزی ترجمہ شائع ہوا۔ جس کے مترجم پروفیسر سجاد شیخ تھے۔

شعری مجموعے
 دھڑکنیں (1942)، رِم جھم، جلال و جمال، شعلہء گُل، دشتِ وفا، مُحیط، دوام، لوحِ خاک، جمال، بسیط

انیس سو اٹھاسی میں حج کی سعادت حاصل کی اور بعد ازاں کئی بار عمرے کے لیئے بھی گئے۔ انیس سو پچانوے میں کہانیوں کا آخری مجموعہ ’کوہ پیما‘ شائع ہوا اسی برس شاعری کی آخری کتاب ’بسیط‘ بھی شائع ہوئی۔

انیس سو ننانوے میں عمر بھر کی ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے نشانِ امتیاز دیا۔ دو ہزار میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے احمد ندیم قاسمی کی کہانیوں کا ایک اور انگریزی ترجمہ شائع کیا، اِس بار فاروق حسن مترجم تھے۔

دوہزار دو میں ’میرے ہم سفر‘ شائع ہوئی جس میں مرحوم نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے شخصی خاکے لکھے تھے۔ اگلے برس ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’پاسِ الفاظ‘ شائع ہوا۔ دو ہزار تین میں مجلسِ ترقی ادب کی نظامت سے استعفٰی دے دیا لیکن حکومتِ پنجاب کی فرمائش پر پھر سے کام شروع کر دیا۔

احمد ندیم قاسمی کی تصنیفات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:

افسانوی مجموعے:
چوپال (1939 )، بگولے، طلوع و غروب، گرداب، سیلاب، آنچل، آبلے، آس پاس، درو دیوار، سنّاٹا، بازارِ حیات، برگِ حنا، گھر سے گھر تک، کپاس کا پھول، نیلا پتھر کوہ پیما 1995

شعری مجموعے:
دھڑکنیں (1942)، رِم جھم، جلال و جمال، شعلہء گُل، دشتِ وفا، مُحیط، دوام، لوحِ خاک، جمال، بسیط (1995)

اسی بارے میں
احمد ندیم قاسمی چل بسے
10 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد