صحافی ظفریاب کا لاہور میں جنازہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بچوں کی جبری مشقت کا معاملہ اٹھانے پر غداری کے مقدمہ کا سامنا کرنے والے صحافی ظفریاب احمد کی نماز جنازہ جمعرات کی سہ پہر لاہور میں ادا کی گئی۔ وہ بدھ کوطویل علالت کے بعد لاہور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی عمر ترپن برس تھی۔ ظفریاب احمد بائیں بازو کے طالبعلم رہنما، دانشور اور صحافی کے طور لاہور کی جانی پہچانی شخصیت تھے۔ وہ جگر اور سینے کی تکلیف میں مبتلا تھے اور لاہور کے شیخ زائد ہسپتال میں دو ماہ داخل رہنے کے بعد اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ ظفریاب احمد ستر کی دہائی میں پنجاب یونورسٹی میں بائیں بازو کے طالبعلم رہنما کے طور پر ابھرے اور بعد میں ایک نڈر صحافی کے طور پر روزنامہ ڈان، ہفت روزہ ویوپوائنٹ، اور روزنامہ فرنٹئر پوسٹ سے وابستہ رہے۔ صحافی حسین نقی کے ساتھ مل کر انہوں نے انیس سو اناسی میں پنجابی کا پہلا اخبار سجن نکالا تھا۔ جنرل ضیاالحق کی دور میں جب پاکستانی پریس پر سخت سینسرشپ عائد تھی لاہور سے مظہر علی خان کی ادارت میں شائع ہونے والا ہفت روزہ ویوپوائنٹ حزب اختلاف کے نقطہ نظر اور فوجی حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدی آواز اٹھانے والے چند رسائل میں شامل تھا۔ ظفریاب احمد نے اس مشکل دور میں رپورٹر اور تبصرہ نگار کے طور اس ہفت روزہ میں کام کیا۔ جب انیس سو بانوے میں ویوپوائنٹ بند ہوگیا تو ظفریاب احمد فرنٹئر پوسٹ اخبار سے وابستہ ہوگئے بعد میں انہوں نے نے بچوں کی جبری مشقت کے خلاف کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم بنڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ کے لیے کام کرنا شروع کردیا تھا جس کے سربراہ احسان اللہ خان ملک چھوڑ کر سکنڈے نیویا چلےگئے تھے۔ انیس سو چورانوے میں اس تنظیم نے بچوں کی جبری مشقت کے خلاف تحریک میں شامل مریدکے میں ایک لڑکے اقبال مسیح کے قتل کی ذمہ داری قالین سازوں پر ڈال کر اسے عالمی سطح پر اٹھایا تو پاکستان کی قالین کی برآمدات کو نقصان پہنچنا شروع ہوا۔ حکومتی اداروں نے اس تنظیم کے خلاف تحقیات کیں اور اس تنظیم اور ظفریاب احمد کے خلاف ملک سے غداری کے الزام میں مقدمہ قائم کیا۔ ظفریاب احمد گرفتار کرلیےگئے اور چند ماہ بعد لاہور ہائی کورٹ نے انہیں رہا کیا تو وہ امریکہ چلے گئے۔وہ دو ماہ پہلے سخت بیماری کی حالت میں پاکستان واپس آئے تھے۔ ظفریاب احمد نے ایک برطانوی خاتون سے شادی کی تھی جو ایک برس بعد طلاق پر منتج ہوئی۔ ان کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے پسماندگان میں ان کے ایک بھائی اور ایک بہن ہیں۔ | اسی بارے میں حنیف رامے انتقال کر گئے01 January, 2006 | پاکستان سکواش: روشن خان انتقال کرگئے 07 January, 2006 | پاکستان خان عبدالولی خان انتقال کر گئے 26 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||