اسلام آباد:’ڈبلیو ٹی او‘مخالف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تجارت کی عالمی تنظیم ’ڈبلیو ٹی او‘ کے خلاف پاکستان کی بعض شہری حقوق اور کسانوں کی تنظیموں نے پیر کے روز اسلام آباد میں احتجاجی جلوس نکالا اور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان حکومت ’ کسان دشمن‘ معاہدے پر دستخط نہ کرے۔ جلوس کے بیسیوں شرکاء نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ’ڈبلیو ٹی او نامنظور‘، ’سبسڈی ختم نہ کریں‘ اور ’کسانوں کے حقوق کا تحفظ کریں‘ جیسے نعرے لکھے تھے۔ جلوس چائنا چوک سے شروع ہوا اور پارلیمان کی عمارت کی طرف جا رہا تھا لیکن پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا اور جلوس کے شرکاء سڑک کنارے لمبی قطار بنا کر احتجاج کرتے رہے۔ پاکستان کسان اتحاد نامی تنظیم کے رہنما جان نثار سلیم نے اس موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دنیا کے امیر ممالک پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دنیا بھر میں اجارہ داری قائم کرنے اور غریب ممالک کے کسانوں کو ملنے والی اعانتیں یعنی ’سبسیڈیز‘ ختم کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ اٹھائیس تاریخ کو قطر میں ’ڈبلیو ٹی او‘ کا ایک اجلاس منعقد ہورہا جس میں کسانوں کو حاصل ’سبسیڈیز‘ ختم کیے جانے کے بارے میں گزشتہ پانچ برسوں سے جاری بحث کو اب منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ایک معاہدے پر دستخط ہونے ہیں۔ صوبہ سرحد سے آئے ہوئے جان نثار سلیم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بڑی صنعتوں کے مالک جو وزیر بھی ہیں وہ پاکستانی کسانوں اور زمینداروں کے مفادات کے پہلے ہی خلاف ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستانی نمائندے دوہا اجلاس میں ’کسان دشمن‘ معاہدے پر دستخط کردیں گے اور اس ملک کے غریب کسان برباد ہوجائیں گے۔ اِس موقع پر ’ایکشن ایڈ‘ اور ’ساگ‘ نامی تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کی خاطر غریب ممالک کے کسانوں اور زمینداروں سے ’سبسڈی‘ ختم کرنے کا معاہدہ کرکے زیادتی کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں عالمی سوشل فورم، تجربات اور آراء 29 March, 2006 | پاکستان کاشتکاروں کی 70 سال بعدبے دخلی 03 April, 2006 | پاکستان ’خوارک کو کاروبار مت بناؤ‘05 May, 2006 | پاکستان پٹرول مہنگا تو چینی بھی مہنگی07 February, 2006 | پاکستان ناران میں کسانوں کو مشکلات25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||