BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 March, 2006, 03:44 GMT 08:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی سوشل فورم، تجربات اور آراء

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی روشین گال
آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی روشین گال
کراچی میں ہونے والے عالمی سوشل فورم اس سے قبل ہونے والے عالمی سوشل فورم سے مختلف ہے۔ جس میں نہ تو روایتی عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف جذباتی ریلیاں نکالی گئیں ہیں نہ ہی کوئی نیا رخ متعین ہوسکا ہے۔

پانچ دن جاری رہنے والے فورم پر احتجاج کے بجائے ثقافتی رنگ زیادہ حاوی رہا، جس کی وجہ سے یہ ایک میلے کا زیادہ منظر پیش کر رہا تھا۔

بنارس میں کسانوں کے فلاح اور بہبود کے لیئے سرگرم تنزین کہتے ہیں کہ یہ سوشل فورم پاکستان میں ہوا یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم اس بہانے یہاں آ تو سکے۔

 سوشل فورم اتنی بڑی طاقت نہیں ہے جس سے کوئی سیاسی سطح پر تبدیلی رونما ہوجائے

انہوں نے بتایا کہ یہاں آکر انہوں نے کوئی نئی چیز نہیں سیکھی ہے۔ اس فورم میں مغرب سے زیادہ شرکت نہیں تھی، یہ عالمی نہیں بلکہ جنوبی ایشیائی سوشل فورم رہا۔

تنزین کا کہنا تھا کہ سوشل فورم اتنی بڑی طاقت نہیں ہے جس سے کوئی سیاسی سطح پر تبدیلی رونما ہوجائے۔ جب ممبئی کے سوشل فورم کے لیئےمخالفین نے کہا تھا کہ یہ این جی اوز کا پلیٹ فارم ہے، پیپلز فورم الگ ہونا چاہئے۔

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی روشین گال نے بتایا کہ اس فورم سے انہیں پاکستان میں جبری مشقت، قبائلی نظام، ایچ آئی وی ، ماہی گیروں کے مسائل سے آگہی ہوئی ۔

راجندر پاکستان آنے پر خوش ہیں

انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ بھی پتہ چلا کے یہاں بچے سڑکوں پر رہتے ہیں۔ یہاں جبری مشقت نہ صرف زراعت میں ہے بلکہ ہوٹلوں میں بھی جبری مشقت لی جاتی ہے اور لوگوں کو یونین سازی کا حق نہیں ہے۔

چین میں اسلامک کلچر میں پی ایچ ڈی کی خواہشمند ایک طالبہ
کا کہنا تھا کہ انہیں ورلڈ سوشل فورم کے ٹائٹل کہ ایک اور دنیا ممکن ہے سے دلچسپی تھی۔

مگر فورم کے پرورگرام کے موضوعات بہت سطحی نوعیت کے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں مسئلہ کشمیر میں بہت دلچسپی تھی۔ جب میں ایک پروگرام میں گئی تو وہاں ایک دوسرے کی شدید مخالفت کی گئی، یہ ایک سیمینار تھا لوگوں کو برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔

چینی طالبہ کا کہنا تھا کہ وہ صرف موسیقی سے لطف اندوز ہوئیں ۔

نیپال نیچرل ریسورسز مئنیجمنیٹ سے منسلک سے راجندرہ لامشن کا کہنا تھا کہ یہ فورم سوشل شیئرنگ کا بہت بڑا موقعہ فراہم کرتا ہے، مندوبین یہ سیکھتے ہیں کہ اپنے اپنے ملکوں میں لوگوں کو جو حکومتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیز کے حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں، ان کے ساتھ کیسے مشترکہ طور پر نمٹا جائے۔

سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے نوجوان لیو بتاتے ہیں کہ اس فورم میں ان کو پاکستان میں جبری مشقت اور ریاستی اداروں کی جانب سے لوگوں کو یرغمال بنانے کے بارے میں معلوم ہوا۔ اور پاکستان کے تاریخ کی بارے میں بھی معلومات حاصل ہوئی۔

لیو کا پاکستان کے بارے میں تصور پختہ ہوا کہ فوجی ڈکٹیر نے ملک پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

تزئین ورلڈ سوشل فورم کو کوئی سیاسی پلیٹ فارم قرار نہیں دیتے

سری لنکا سے آنے والے گما گئے کہتے ہیں اس سے قبل ممبئی میں جو سوشل فورم ہوا تھا وہ بہت بڑا تھا۔ کراچی میں منعقد اس فورم میں میں کلچرل آئٹم زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی بڑی ریڈیکل ریلی نہیں نکالی گئی۔ اس کے مقابلے میں ممبئی سوشل فورم میں بہت بڑی ریلی نکلی تھیں۔ تمام لوگ سنجیدگی سے اپنے مسائل بتا رہے تھے مگر یہاں پر اکثر لوگ گا اور بجا رہے ہیں۔

بنگلادیش کے مندوبین میں شامل مظہر السلام بتاتے ہیں اس فورم میں ایشیا کے تمام لوگ شریک ہیں جو یہ محسوس کرتے ہیں سامراج کے خلاف لڑائی میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔

 پاکستان میں عالمی سوشل فورم کے آرگنائزر محمد تحسین نے بتایا کہ پاکستان میں بہت عرصے کے بعد ایک امید بندھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے سے قبل پاکستان کے لوگ کے بارے میں کافی غلط فہمی تھی، مگر ہمیں خوشی ہوئی کہ پاکستانی لوگ روشن خیال اور فراخدل ہیں۔

فلسطین سے آنے والے جمال جمعہ نے بتایا کہ وہ فلسطینی تحریک کے ایشیائی تحریکوں سے رابطے کے لیئے آئے ہیں اور پاکستان کے عوام کو فلسطین کے تازہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

اس فورم پر مختلف فکر اور کلچر کے لوگ ملتے ہیں اور مشترکہ مسائل پر بات کی جاتی ہے۔ اور مستقبل کی حکمت عمل طئے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سوشل فورم میں منعقد سیمیناروں میں لوگ امریکہ مخالف جذبات کا اظہار کر رہے تھے، جبکہ ثقافتی پروگراموں کو بھی لوگوں کو متحرک کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں عالمی سوشل فورم کے آرگنائزر محمد تحسین نے بتایا کہ پاکستان میں بہت عرصے کے بعد ایک امید بندھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اوپن فورم ہے۔ جس ملک کےلوگ ہوتے ہیں وہ اسی طرح حصہ لیتے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں سامراج اور امریکہ کے خلاف کھل کر بات نہیں کی گئی تو یہ سوسائٹی نہیں کرنا چاہتی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بڑی ریلیاں نکلی ہیں وہاں آبادی بھی زیادہ ہے اور جمہوریت بھی ہے۔

سندھ کے صحرائی علاقے کاچھو سے تعلق رکھنے والی حنا مریم کا کہنا تھا کہ اس فورم کے ذریعے انہیں معلوم ہوا ہے کہ جو مسئلے ہمیں درپیش ہیں وہ دوسروں ممالک میں بھی موجود ہیں۔ اس طرح دوسرے ممالک کے حالات کے بارے میں بھی آگاہی ہوئی ہے۔

حنا کہتی ہیں کہ ہم سب لوگ بلا امتیازمذہب اور رنگ نسل کے اگر اکٹھے ہوجائیں تو سامراجی قوتوں سے لڑسکتے ہیں۔

دلی میں مزدوروں کے ریسورس سینٹر سے منسلک شیکھر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جن لوگوں سے ملنے کا موقع نہیں ملتا ہے انہیں اس فورم میں ملنے کا ایک اچھا موقعہ ملا ۔

شیکھر نے بتایا کہ سیمینار اور ریلیوں سے بہت سارے اشوز کے بارے میں لوگوں کو آگاہی ملی۔ اور یہ پتہ چلا کہ متحد ہوکر کچھ تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد