بتیس مرسیڈیز سمیت 55 گاڑیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت نے سنیچر کے روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں سرکاری استعمال کے لیے بتیس مرسیڈیز گاڑیوں سمیت پچپن گاڑیاں ایک ارب اٹھاسی کروڑ پچاس لاکھ روپے میں خریدی گئی ہیں۔ رکن اسمبلی محمد صفدر شاکر کے سوال پر کابینہ ڈویزن کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ چھ مرسیڈیز کاریں پروٹوکول ڈیوٹی کے لیے ہیں جبکہ چھبیس مرسیڈیز کاریں اور جیپیں وزیراعظم سکریٹریٹ کے حوالے کی گئی ہیں۔ سن دو ہزار تین سے پانچ تک خریدی گئی گاڑیوں میں بارہ ٹیوٹا کرولا، 5 سوزوکی کلٹس 5 وین اور ایک سوزوکی مہران شامل ہیں۔ حکومت کی فراہم کردہ معلومات میں یہ تو نہیں بتایا کہ پروٹوکول اور وزیراعظم کے لیے باہر سے منگوائی گئی بتیس مرسیڈیز پر ٹیکس ادا کیے گئے ہیں یا نہیں رکن اسمبلی صفدر شاکر نے حکومت سے یہ وضاحت بھی مانگی تھی کہ کس کے لیے کون سی گاڑی خریدی گئی ہے لیکن اس بارے میں حکومت نے جواب دیا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر یہ بتانا مناسب نہیں کہ کون سی گاڑی کس کے پاس ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ کے چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی نے بھی اپنے لیے نئی مرسیڈیز گاڑیاں خریدنے کی منظوری حاصل کرلی ہے۔ وزیراعظم سکریٹریٹ کے حوالے کی گئی چھبیس مرسیڈیز گاڑیوں میں سے بیشتر ’بلٹ پروف‘ ہیں اور ان میں سے کچھ گاڑیوں میں ’سگنل سینسرنگ‘ آلات بھی نصب ہیں۔ ایسے آلات والی گاڑیاں جہاں سے بھی گزرتی ہیں وہاں ارد گرد کے موبائل فون اور ریموٹ کنٹرول ’سگنلز‘ منجمند ہو جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں سخت سپیکر، اے آر ڈی واک آؤٹ07 March, 2005 | پاکستان رستے بند کرنے پر تحاریکِ استحقاق16 March, 2005 | پاکستان اسمبلی: حکومت کو شکست16 March, 2005 | پاکستان سپیکر قومی اسمبلی کی دھمکی04 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||