اسمبلی: حکومت کو شکست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کو بدھ کی شام گئے قومی اسمبلی میں اس وقت شکست کا سامنہ کرنا پڑا جب اعزازات سے متعلق قانوں میں ترمیم کے بارے میں ایک تحریک پر ووٹنگ کرائی گئی۔ ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی ’ڈیکوریشنز ایکٹ 1975‘ میں ترمیم کرنے کے بل کے بارے میں اپنی رپورٹ مقررہ مدت تک پیش نہیں کرپائی۔ اس تاخیر کو درگزر کرنے کے متعلق جب حکومت نے تحریک پیش کی تو ایوان میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد اس وقت حکومتی نمائندگان سے زیادہ تھی۔ جب اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سردار یعقوب نے وائس ووٹنگ کے ذریعے تحریک منظور کرانے کی کوشش کی تو حزب مخالف کے اراکین نے سخت احتجاج کیا اور گنتی کرانے کا مطالبہ کیا۔ جب صورتحال مزید بگڑنے لگی اور حکومت کی شکست یقینی نظر آرہی تھی تو سپیکر چودھری امیر حسین نے خود کرسی صدارت سنبھال لی۔ سپیکر نے صورتحال کی نزاکت کو جانتے ہوئے حکومت کو وقت دینے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے اراکین پورے کرلے اور اس دوران انہوں نے حزب مخالف کے اراکین کو نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت دے دی۔ حزب اختلاف نے سپیکر سے کہا کہ وہ کسی معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے اور فوری ایوان میں ووٹنگ کرائی جائے۔ لیکن سپیکر نے اس دوران حکومتی رکن ریاض فتیانہ کو پرچی بھیجی اور وہ مختلف معاملات پر لمبی تقریر کرنے لگے۔ حزب اختلاف نے اس بات کا نوٹس لیا اور کچھ ان کے اراکین سپیکر کے روسٹرم کے آگے جمع ہوگئے اور احتجاج کرنا شروع کردیا۔ اس وقت تقریبا آدھے گھنٹے تک سپیکر نے کوشش کی کہ حکومتی اراکین آجائیں لیکن پھر بھی ایسا نہیں ہوا اور سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے سپیکر سے کہا کہ کبھی تاریخ میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں اور آپ دیکھ لیں اگر حزب مخالف والے مانتے ہیں تو ٹھیک نہیں تو وہ ووٹنگ کرائیں۔ ان کی اس بات پر حزب مخالف نے انہیں بھرپور داد دیتے ہوئے ووٹنگ کرانے پر مزید زور دیا۔ سپیکر نے جب ووٹنگ کرائی تو تحریک کے حق میں حکومت کے ووٹوں سے حزب اختلاف کے ووٹ زیادہ تھے اور تحریک ناکام ہوگئی۔ حزب اختلاف کو اس سوال پر سرکاری رکن صائمہ اختر بھروانہ نے بھی ووٹ دیا اور ان کا کہنا تھا کہ جب ساٹھ وزراء کابینہ میں شامل ہیں تو وہ ایوان میں کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دے رہی ہیں اور ویسے بھی وہ آزاد حیثیت میں منتخب ہوئی تھیں۔ پارلیمانی طرز حکومت میں ایسا شاید ہی دیکھنے کو ملتا ہو کہ اکثریت کے باوجود کسی تحریک پر حکومت کو شکست ہوتی ہو۔ واضح رہے کہ موجودہ قومی اسمبلی میں تین سو بیالیس اراکین ہیں جس میں سے دو سو کے لگ بھگ حکومت کے حامی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||