BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 March, 2005, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپیکر کو بھی مرسیڈیز چاہیے

مرسیڈیز کار
خریدی جانے والی مرسیڈیز کار کی قیمت ایک کروڑ سترہ لاکھ روپے بتائی گئی ہے
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے اپنی زیرصدارت اجلاس میں خود اپنے لیے نئی مرسیڈیز کار خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔

ٹینڈر دیے بغیر مرسیڈیز کار خریدنے کی منظوری منگل کے روز قومی اسمبلی کی مالیات کے بارے میں کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس میں حزب مخالف کے اراکین بھی شریک تھے لیکن انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

اجلاس میں شریک رکن اسمبلی سید خورشید شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں آئندہ سال کے لیے قومی اسمبلی کے بجٹ میں تئیس فیصد اضافہ کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔

حکومتی اتحاد کے چیف وہپ سردار نصراللہ دریشک نے اس ضمن میں بتایا کہ آئندہ سال کے بجٹ کی منظوری آئندہ اجلاس میں دی جائے گی۔

تاہم انہوں نے سپیکر کے لیے مرسیڈیز گاڑی خریدنے کی منظوری کی تصدیق کی اور کہا کہ حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی۔

انہوں نے بتایا کہ کیونکہ ایوان کی قائمہ کمیٹیوں کی تعداد بتیس سے بڑھاکر چوالیس کردی گئی ہے تو اس کے لیے اضافی سٹاف کی بھی ضرورت ہوگی اور اجلاس میں مطلوبہ ملازمین کی بھرتی کی بھی منظوری دی گئی۔

پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے سپیکر کے اب بھی زیراستعمال کار ’مرسیڈیز‘ ہی ہے لیکن انہوں نے نئی گاڑی خریدنے کے لیے اجلاس میں جو عذر پیش کیے اس میں ایک تو زیراستعمال کار دس برس پرانی ہے اور دوسرا یہ گاڑی حال ہی میں حادثے کا شکار ہوئی ہے۔

سپیکر نے اجلاس کو بتایا کہ ان کے زیراستعمال مرسیڈیز کار کی مرمت پر ساڑھے تیرہ لاکھ روپوں کی لاگت کا تخمینہ ہے اور اس کے بعد بھی خدشہ ہے کہ گاڑی کی اصل حالت بحال ہوگی یا نہیں۔

اجلاس میں پیش کیے گئے کاغذات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مرسڈیز گاڑیوں کی فراہمی کے واحد ڈیلر نے نئی گاڑی کی قیمت ایک کروڑ چونتیس لاکھ روپے بتائی ہے لیکن اجلاس میں خریدی جانے والی مرسیڈیز کار کی قیمت ایک کروڑ سترہ لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

اجلاس میں شریک ایک حکومتی رکن نے کہا کہ ایران کے سپیکر کو جہاز ملا ہوا ہے تو پاکستان کا سپپیکر مہنگی کار کیوں نہیں رکھ سکتا۔

بتایا جاتا ہے کہ نئی گاڑی آنے کے بعد سپیکر اپنی موجودہ گاڑی کیبنیٹ ڈویژن کے حوالے کر دیں گے جو سرکاری گاڑیاں سنبھالنے کا مجاز محکمہ ہے۔ واضح رہے کہ سپیکر اپنے لیے اس وقت مرسیڈیز خرید رہے ہیں جب حکومت نے پہلے ہی ایک ارب روپوں سے زیادہ لاگت سے اس طرح کی گاڑیاں خرید رہی ہے۔

سید خورشید شاہ نے مزید بتایا کہ اراکین اسمبلی کے فضائی سفر کے مد میں الاؤنس بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا کیونکہ ان کے بقول سن چھیانوے سے اس مد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا جبکہ فضائی کمپنیوں نے اپنے کرایوں میں دوگنا اضافہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی 30 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے
زندگی بسر کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد