’شہید، ہلاک یا جاں بحق‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شدت پسند رہنما ابومصعب الزرقاوی کی امریکی فوج کے ہاتھوں فضائی حملے میں ہلاکت کی خبر پاکستانی اخبارات نے نمایاں طور پر شہ سرخیوں میں تو شائع کی ہے تاہم کچھ اخبارات نے انہیں’شہید‘ قرار دیا ہے تو کچھ نے قتل ، ہلاک اور جاں بحق کے الفاظ استعمال کیئے ہیں۔ اردو روزنامہ نوائے وقت نے الزرقاوی کو اپنی شہ سرخی میں شہید قرار دیا ہے جبکہ اِسی گروپ کے انگریزی اخبار ’دی نیشن، نے انہیں’ کِلڈ‘ یا ہلاک لکھا ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈان، دی نیوز، ڈیلی ٹائمز، فرنٹیئر پوسٹ، سٹیٹسمین، دی پوسٹ اور پاکستان آبزرور سمیت بیشتر اخبارات نے ابومصعب الزرقاوی کو اپنی شہ سرخیوں میں ہلاک لکھا ہے۔ اردو روزنامہ جنگ، خبریں اور ایکسپریس نے الزرقاوی کو اپنی شہ سرخیوں میں جاں بحق لکھا ہے جبکہ روزنامہ دن اور بعض دیگر اخبارات نے لکھا ہے کہ الزرقاوی ہلاک ہوگئے۔ پاکستانی اخبارات نے الزرقاوی کے موت کی خبر کے ساتھ ساتھ ان کی مختلف تصاویر اور ان کا سوانحی خاکہ بھی شائع کیا ہے۔ الزرقاوی کی ہلاکت کو جہاں اخبارات نے نمایاں کوریج دی ہے وہاں الیکٹرانک میڈیا میں بھی اس کو خاصی کوریج دی گئی اور ان کے بارے میں خصوصی پروگرام اور ان کے پرانے انٹرویو بھی نشر کیئےگئے۔ عراق کے شدت پسند رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ ’الزرقاوی کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک بڑی پیش رفت ہے‘۔ تاہم اس سلسلے میں تاحال پاکستان کی مذہبی اور کالعدم قرار دی گئی شدت پسند جماعتوں کے رہنماؤں کا کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ | اسی بارے میں ایک بڑا واقعہ ہے، کوئی اور آ جائےگا08 June, 2006 | پاکستان ’نئی معلومات کا خزانہ ملا ہے‘09 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی: خط اور وڈیو سے اقتباسات 08 June, 2006 | آس پاس ابو مصعب الزرقاوی کون تھے؟08 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی فضائی حملے میں ہلاک08 June, 2006 | آس پاس ’الزرقاوی ہلاکت خوش آئند ہے‘08 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||