ایک بڑا واقعہ ہے، کوئی اور آ جائےگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے عراق میں شدت پسند رہنما ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے سلسلے میں ایک بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ الزرقاوی کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شروع سے یہی موقف ہے کہ عراق میں جلد سے جلد حالات بہتر ہونے چاہیئیں تاکہ عراقی عوام آزادی کی فضا میں سانس لے سکیں۔ اس سوال پر کہ کیا ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت سے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں القاعدہ اور ان کے حامیوں کے خلاف جنگ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ انہیں جتنا کہنا تھا، کہہ دیا اور وہ مزید کچھ نہیں کہنا چاہتیں۔ پاکستانی عوام نے بھی الزرقاوی کی ہلاکت اور ان کے بعد عراق میں مزاحمتی تحریک کی حیثیت پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے جاوید آفریدی کا کہنا تھا کہ ’الزرقاوی کے قتل سے اتحادی افواج مزید بے لگام ہو جائیں گی کیونکہ وہ ان قابض افواج کے خلاف بلند ہونے والی واحد آواز تھے‘۔ ایک اور شہری اختر امین کا خیال تھا کہ عراقی جو جنگ لڑ رہے ہیں اس میں کمی نہیں آئے گی اور الزرقاوی کی جگہ کوئی اور رہنما آ جائےگا۔ ذاکر حسنین نامی شہری کا کہنا تھا کہ یہ عراقی شیعوں کے لیئے ایک مثبت خبر ہے اور الزرقاوی کی ہلاکت سے اتحادی فوج کو یقیناً تقویت ملے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ہلاکت سے عراق میں جاری مزاحمت کم نہیں ہو گی کیونکہ وہاں لازماً متبادل قیادت موجود ہوگی۔ واضح رہے کہ عراق میں القاعدہ کے سینئر ترین رہنما ابومصعب الزرقاوی کو بدھ کی شام مقامی وقت کے مطابق سوا چھ بجے بعقوبہ سے آٹھ کلومیٹر دور ایک ’سیف ہاؤس‘ پر امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے فضائی حملے میں ہلاک کر دیاگیا تھا۔ | اسی بارے میں ’الزرقاوی ہلاکت خوش آئند ہے‘08 June, 2006 | آس پاس ابو مصعب الزرقاوی فضائی حملے میں ہلاک08 June, 2006 | آس پاس ابو مصعب الزرقاوی کون تھے؟08 June, 2006 | آس پاس الزرقاوی کا آخری وڈیو 08 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||