’لشکرِ جھنگوی کا اہم رکن گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری یعقوب نے دعویٰ کیا ہے کہ لشکر جھنگوی کے ایک اہم رکن کو جمعرات کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں اچانک بلائی گئی ایک اخباری کانفرنس میں چوہدری یعقوب نے کہا ہے کہ حبیب اللہ لشکر جھنگوی کا وہ اہم رکن ہے جو اکثر وارداتوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا ہے اور اس کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر تھی۔ انہوں نے کہا کہ حبیب اللہ خودکش حملہ آوروں کو تیار کرتا تھا اور کوئٹہ میں شیعہ امام بارگاہ، سریاب روڈ پر شیعہ پولیس کیڈٹس پر حملہ اور دو مارچ عاشورہ کے جلوس پر حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چوہدری یعقوب نے کہا کہ بلوچستان میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے تین اہم کارکنوں عثمان سیف اللہ، داؤد بادینی اور حبیب اللہ وارداتوں میں ملوث رہے ہیں جن میں سے دو گرفتار کیے گئے ہیں لیکن عثمان سیف اللہ کی گرفتاری کی انہوں نے نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی ہے۔
اس موقع پر موجود سی آئی ڈی پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ انیس سو نناوے سے بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات شروع ہوئے اور آخری واردات دسمبر دو ہزار پانچ میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اس گروہ میں کوئی بتیس افراد کے نام سامنے آئے ہیں جن میں سے تیئس گرفتار ہو چکے ہیں۔ ان میں جو قتل ٹارگٹ کلنگ اور حملوں میں ملوث رہے ہیں ان کی تعداد پانچ تک ہے لیکن وہ اب تک گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ باقی دیگر حوالوں سے جیسے کرائے کا مکان فراہم کرنا وغیرہ جیسے کاموں میں ملوث رہے ہیں۔ یہاں بعض ذرائع سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ حبیب اللہ کی گرفتاری کئی ماہ پہلے ہو چکی تھی اور اب اچانک بلائی گئی اخباری کانفرنس کا مقصد حالیہ اغواء کی وارداتوں کے حوالے سے پولیس پر کی گئی تنقید کے اثر کو زائل کرنا تھا جبکہ چوہدری یعقوب نے کہا ہے کہ حبیب اللہ کو آج یعنی جمعرات کو گرفتار کیا اور انہوں نے اخبار نویسوں کو فوراً خبر دینے کے لیے اخباری کانفرنس بلائی ہے۔ بلوچستان اور پھر خصوصاً کوئٹہ میں اغواء کی وارداتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں اغوا ہونے والی ایک بچی شگفتہ کی لاش ملنے کے بعد شہر میں خوف کی فضا پائی جاتی تھی اور پولیس افسران رابطے میں نہیں آرہے تھے۔ مقامی اخبارات میں بھی پولیس پر تنقید کی گئی اور شگفتہ کے رشتہ داروں نے کہا کہ ان کی بچی کی عدم بازیابی کی ذمہ دار پولیس ہے۔ کوئٹہ سے گزشتہ چند ماہ میں کوئی بیس کے لگ بھگ بچے اغواء یا غائب ہوئے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے ایک چھ سالہ عادل اور نویں جماعت کے طالبعلم احسان اللہ کو سکول سے آتے اور جاتے وقت زبردستی اٹھایا گیا ہے جن کے بارے میں اب تک کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ | اسی بارے میں کوئٹہ دھماکے: 10 افراد گرفتار12 May, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی پر قتل کا مقدمہ14 May, 2006 | پاکستان ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کا اغوا، رہائی21 March, 2005 | پاکستان اہم افغان عہدیدار، لورالائی سے گرفتار23 May, 2006 | پاکستان مساجد میں نمازیوں کی تلاشی 08 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||