پاکستان: کروز میزائل کا تجربہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے منگل کی صبح کو پانچ سو کلومیٹر تک مار کرنے والے کروز میزائل کا دوسرا تجربہ کیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ میزائل جسے حتف سات ’بابر‘ کا نام دیا گیا ہے ہر طرح کے جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کروز میزائل عموماً نیچی پرواز کرنے والے گائیڈڈ میزائل ہوتے ہیں اور پاکستان نے اپنا پہلا کروز میزائل تجربہ گزشتہ اگست میں کیا تھا اور اسے ایک’سنگِ میل‘ قرار دیا گیا تھا۔ حکام اس بارے میں کچھ نہیں بتا رہے ہیں کہ اس میزائیل کا تجربہ کہاں کیا گیا مگر یہ کہا گیا ہے کہ اس تجربے کے موقع پر صدر جنرل پرویز مشرف بھی موجود تھے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق بابر میزائل کا تجربہ نہایت کامیاب رہا۔ فوجی حکام کا دعوٰی ہے کہ بابر میزائل کی نشاندہی کسی بھی ریڈار سسٹم یا دفاعی سسٹم پر نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ میزائل جنگی کشتی، آبدوز اور ہوائی جہاز کے ذریعے پھینکا جا سکتا ہے۔ اس میزائل کا پہلا تجربہ گزشتہ برس اگست میں کیا گیا تھا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور یہ پاکستان کے سرکردہ سائنسدانوں اور انجینئیروں کی کاوش ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس میزائل کے تجربے پر سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انڈیا کی جانب سے پاکستان کے میزائل تجربے پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے سال ہی انڈیا اور پاکستان نے جوہری بیلسٹک میزائل تجربوں کی پیشگی اطلاع دینے کے معاہدہے پر دستخط کیے تھے۔ | اسی بارے میں ابدالی میزائیل کا ایک اور تجربہ19 February, 2006 | پاکستان پاکستانی کروز میزائل: پہلا تجربہ 11 August, 2005 | پاکستان جوہری امور پر پاک بھارت اعتماد سازی06 August, 2005 | پاکستان ابدالی میزائیل’ حتف دو‘ کا تجربہ31 March, 2005 | پاکستان میزائل کا ایک اور تجربہ04 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||