کراچی: جائے وقوعہ پر ایف بی آئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ایف بی آئی کے درجن بھر سے زائد اہلکاروں نے اتوار کو اس جگہ کا معائنہ کیا جہاں ایک ہفتے پہلے ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے میں ایک امریکی سفارتکار سمیت کم از کم پانچ افراد ہلا ک ہوگئے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ امریکی قونصل خانے سے چند گز فاصلے ہر ہونے والے اس خود کش دھماکے حملے میں اسلامی شدت پسند گروپ اللہ بریگیڈ ملوث ہوسکتے ہیں۔ ایک پاکستانی تفیشن کارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے کو بتایا کہ ان اہلکاروں نے جائے وقوعہ سے لوہے کہ ٹکڑے اٹھائے اور دھماکے والی جگہ سے کچھ تصویریں بنائیں۔ پاکستانی اہلکار کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کے اہلکاروں کا سراغ اکٹھا کرنے کا اپنا طریقہ کارہے۔ خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خود کش حملہ آور بھی شامل تھا۔پاکستانی تفتیش کار جائے وقوعہ سے ملنے والے ایک انسانی ہاتھ کے ذریعے ہلاک ہونے والے کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں۔تفتیشی اہلکار کے مطابق فنگر پرنٹس کی سرکاری ریکارڈ میں پڑتال کی جارہی ہے جبکہ پولیس خود کش حملہ آور کا اگرچہ اس دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن اس سے پہلے کراچی میں ہونےوالے اسی نوعیت کے بم دھماکوں کا الزام اسلامی شدت پسندوں پر عائد کیاجاتا رہاہے۔ اللہ بریگیڈ یا جنداللہ پر شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں امریکی قونصلیٹ پر ہونے والے بم حملے،کرسچین بائبل سٹڈیز گروپ،ایک بھارتی گلوکار کے کنسرٹ اورکراچی کے ایک تھانے پر حملوں میں ملوث ہے۔ | اسی بارے میں کراچی حملہ: ایف بی آئی کی تحقیقات03 March, 2006 | پاکستان بم دھماکہ خودکش حملہ تھا:پولیس02 March, 2006 | پاکستان یہ دہشت گردی ہے: صدر بش02 March, 2006 | پاکستان امریکی قونصلیٹ پر تیسرا حملہ02 March, 2006 | پاکستان کراچی:امریکی قونصلیٹ کے قریب دھماکہ02 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||