BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 February, 2006, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:گیس پلانٹس میں دھماکے

پائپ لائن
سوئی کے علاقے میں کچھ عرصے گوریلا کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈیرہ بگٹی میں لوٹی اور پیر کوہ گیس پلانٹس میں مزید دھماکے ہوئے ہیں جبکہ کوہلو کے علاقے میں بارودی سرنگ کے پھٹنے سے نیم فوجی دستے کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے اور چینی انجینیئروں کی ہلاکت کے حوالے سے چورانوے افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

لوٹی گیس پلانٹ میں چھ اور پیرکوہ گیس پلانٹ میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس سے وہاں کنوؤں اور پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ دھماکے ریموٹ کنٹرول بموں کے ذریعے کیے گئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے ایک کنویں سے تو پہلے ہی بغیر کسی کنٹرول کے گیس کا اخراج جاری ہے اب مزید کنوؤں کو نقصان پہنچا ہے جس سے کوئی نوے ملین کیوبک فٹ گیس کی کمی واقع ہوئی ہے جس سے پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں لیکن یہ سب گیس کمپنی پر منحصر ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے یا نہیں۔

عبدالصمد لاسی سے جب پوچھا گیا کہ فرنٹیئر کور اور فوج کی موجودگی میں مسلح افراد نے بم کیسے نصب کیے تو انھوں نے کہا اب مسلح افراد ٹولیوں کی شکل میں آتے ہیں اور بم نصب کرکے ریموٹ کنٹرول کے ساتھ اڑا دیتے ہیں۔

دو روز پہلے بھی لوٹی اور پیر کوہ گیس پلانٹس میں دھماکے ہوئے تھے جس سے گیس کا اخراج براہ راست شروع ہو گیا تھا۔

ڈیرہ بگٹی کے ناظم کاظم بگٹی نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے مسلح افراد اپنا دفاع ضرور کر رہے ہیں لیکن اس طرح کے واقعات کا انہیں علم نہیں ہے۔

لوٹی اور پیر کوہ گیس پلانٹس سے گیس سوئی گیس فیلڈ جاتی ہے جہاں سے گیس کمپنیوں کے ذریعے مختلف علاقوں کو ترسیل کی جاتی ہے۔ پاکستان میں استعمال ہونے والی گیس کا تیس سے چالیس فیصد حصہ سوئی سے نکالا جاتا ہے۔
ادھر فرنٹییر کور کے حکام نے بتایا ہے کہ کوہلو کے علاقے میں بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ایف سی کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

چینی انجینیئروں کی ہلاکت کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں سے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس خضدار پرویز ظہور نے کہا ہے کہ اب تک چورانوے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جاری ہے۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں لیکن اب تک کی تفتیش کے مطابق حملہ آور گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔چار روز پہلے حب میں نا معلوم افراد نے اٹک سیمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والے تین چینی انجینیئرز کو ایک پاکستانی ڈرائیور سمیت ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نامی تنظیم نے قبول کی تھی لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تھا۔

اسی بارے میں
سوئی پائپ لائن میں دھماکہ
12 January, 2006 | پاکستان
فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے
23 January, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی میں خاموشی رہی
23 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد