BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 January, 2006, 22:25 GMT 03:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: پی پی پی کے تمام گرفتار رہا

پی پی پی کارکن
پنجاب کے حکمران ملک کے حالات کو ایمرجنسی کی طرف لے جانا چاہتے ہیی:پی پی پی رہنما
پنجاب پولیس نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین لاہور کی قیادت سمیت ان درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کر دیا ہے جنہیں پریس کلب لاہور کے سامنے سےگرفتار کیا گیا تھا۔

پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات نوید چودھری نے صحافیوں کوبتایا کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف مبینہ حکومتی کارروائیوں خاص طور پر انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کروائے جانے کے خلاف منگل کو پنجاب بھر میں احتجاجی کیمپ لگے اور احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں صرف لاہور میں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہورکے کارکن بے نظیر کے سرخ وارنٹ جاری ہونے کے خلاف چند گھنٹوں کے لیے ایک احتجاجی کیمپ لگانا چاہتے تھے اس سلسلے میں وہ ٹولیوں کی شکل میں قدم بڑھاؤ بے نظیر، وطن آؤ بے نظیر کے نعرے لگاتے لاہور پریس کلب کے سامنے پہنچتے رہے۔

لیکن پہلے سے موجود پولیس اہلکار انہیں پکڑ کر تھا نے بھجوادیتے۔ گرفتار شدگان کو لاہور کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا جن میں دیگر عام کارکنوں کے علاوہ پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمان چن اور جنرل سیکرٹری سمیع اللہ بھی شامل تھے۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات نے وزیر اعلی پنجاب کے حالیہ بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں چودھری پرویز الہی نے صدر مشرف کے دوہزار آٹھ میں بھی باوردی صدر رہنے کی بات کی ہے۔

سیکرٹری اطلاعات نوید چودھری نے کہا کہ ’الیکشن دوہزار آٹھ میں کروانے کے لیے پنجاب کے حکمران چودھری آئین کی جس شق کا حوالے دیتے ہیں اس کے مطابق ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں ہی الیکشن تاخیر سے ہوسکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’موجودہ گرفتاریاں کرکے پنجاب کے حکمران ملک کے حالات کو ایمرجنسی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں‘۔

پپپلز پارٹی پارلینمٹرین پنجاب کے صدر قاسم ضیا نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے سینکڑوں کارکن گرفتار کیے گئےتھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے چار سو کے قریب مرد کارکن اور سو خاتون گرفتار کی گئیں تاہم لاہور پولیس کے ایک افسر نے ساٹھ مرد کارکنوں اور بائیس عورتوں کے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی تھی۔

پولیس نے پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے شہر میں لگی دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کی ہے جس کے تحت کسی مقام پر پانچ یا پانچ سے زائد افراد اکٹھے نہیں ہوسکتے تاہم بعد میں انہیں رہا کردیا گیا جس کےبعد یہ سوال ابھی جواب طلب ہے کہ اگرگرفتار ہونے والے کارکنوں کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی تھی تو انہیں پولیس نے کیوں کئی گھنٹےتک اپنی حراست میں رکھا اور اگر انہوں نے کوئی خلاف قانون کام کیاتھا تو پھر کس قانون کے تحت انہیں چھوڑ دیا گیا۔

اسی بارے میں
زرداری کا جج پرعدم اطمینان
05 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد