مرنے والوں کی تعداد 6 ہو گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ریلوے پولیس کے انسپیکٹر جنرل میجر (ریٹائرڈ) ظہیر نے کہا ہے کہ جہلم کے قریب ہونے والے ٹرین کے حادتے میں چھ افراد ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہو ئے ہیں۔ میجر(ر) ظہیر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی بوگیوں میں سے دو کو کھائی سے نکال لیا گیا ہے جبکہ چھ ابھی تک وہیں پھنسی ہوئی ہیں۔ ٹرین کے زخمیوں کو جائے حادثہ سے جہلم کے ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا ہے۔ ٹرین میں چھ سو سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ زخمی ہونے والے چالیس افراد میں سے بیس زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اتوار کی شام تقریباً سوا سات بجے راولپنڈی سے لاہور جانے والی نان اسٹاپ لاہور ایکسپریس ٹرین کی کُل دس میں سے آٹھ بوگیاں پٹری سے اترگئی تھیں جن میں سے تین بوگیاں سو فٹ گہری کھائی میں جاگریں تھیں۔ یہ حادثہ دینہ اور سوہاوہ کے درمیان ڈومیلی گاؤں کے پاس پیش آیا۔ لاہور میں حادثہ سے متعلق قائم کیے گئے ریلوے کے ایمرجنسی مرکز کے مطابق ایک ٹرین حادثہ میں زخمیوں اور دوسرے مسافروں کو لے کر لاہور پہنچ چکی ہے جبکہ دوسرے زخیوں کو جہلم کے ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔ پولیس اور فوج کے دستے جائے حادثہ پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بوگیاں سو فٹ گہری کھائی میں گری ہیں جبکہ انجن کے بالکل پیچھے کی بوگی اور سب سے آخری بوگی پٹری سے نہیں اتریں۔ لاہور پہنچنے والے مسافرین نے بتایا کہ انہیں حادثہ سے پہلے گڑ گڑاہٹ کی آواز آئی اور اس کے بعد چیخ و پکار مچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے حادثہ پر تقریباً تین سو فٹ جگہ پر ریل کی پٹری تباہ ہوگئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جہلم کے قریب ٹرین حادثہ کے جائے وقوعہ پر ویرانہ ہے اور وہاں تک جانے والا راستہ کچا اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔ جائے حادثہ پر پہنچنے کے لیے سڑک سے تقریباً چار کلومیٹر پیدل چل کر جانا پڑتا ہے۔ دوسری طرف وزیر ریلوے شمیم حیدر نے کہا ہے کہ ٹرین کے حادثہ کی وجہ تیز رفتاری بھی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ اس وقت ایک موڑ سے گزر رہی تھی اور یہ حادثہ پٹری میں خرابی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لاہور میں پاکستان ریلوے کے ہیڈکوارٹرز میں حکام نے بتایا کہ حادثہ کا شکار ہونے والی ٹرین میں چھ سو اکیس مسافر سوار تھے جبکہ حادثہ کا شکار ہونے والی سات بوگیوں میں چار سو سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ لاہور اور راولپنڈی کے ٹریک پر ٹرینوں کی آمد ورفت معطل کردی گئی ہے۔ جہلم کے ضلعی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریلوے کا کہنا تھا کہ ابھی اسباب کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی وجہ تیز رفتاری تھی یا بریک کے ساتھ کچھ کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ٹرین حادثہ: چار ہلاک، تیس زخمی29 January, 2006 | پاکستان گھوٹکی میں کیا دیکھا14 July, 2005 | پاکستان تیز گام کے ڈرائیور کہاں ہیں؟17 July, 2005 | پاکستان گھوٹکی حادثے کی رپورٹ طلب18 July, 2005 | پاکستان ٹرین کاحادثہ، 132 افرادہلاک 13 July, 2005 | پاکستان تین ٹرینیں کیسے ٹکرائیں؟13 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||