تیز گام کے ڈرائیور کہاں ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ جولائی کی صبح گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے سٹیشن پر تین ٹرینوں کے درمیان ہونے والے خوفناک تصادم میں تینوں گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں سے صرف تیز گام کے خیر محمد سومرو اور ان کے نائب نوید شاہ ہی بچ پائے تھے لیکن تب سے اب تک وہ کہاں ہیں کسی کو پتہ نہیں یا بتانے کو تیار نہیں۔ خیر محمد اور نوید شاہ دونوں کا تعلق سکھر کے علاقے روہڑی سے ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ وہاں لوکو موٹیو شیڈ میں رہتے ہیں۔ یہ دونوں سرحد سٹیشن پر ہونے والے جان لیوا تصادم کے چشم دید گواہ ہیں اور یہی دو حضرات زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ تیرہ جولائی کی صبح پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین ریل گاڑیاں آپس میں کیسے ٹکرائیں۔ ریلوے ریکارڈ کے مطابق کراچی ایکسپریس اور تیز گام دونوں تین بج کر باون منٹ پر سرحد ریلوے سٹیشن میں داخل ہوئیں۔ تیز گام کا انجن اور تین ڈبے اس وقت تک آگے جا چکے تھے جب کراچی ایکسپریس سٹیشن پر کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرانے کے بعد اس (تیز گام) کے چوتھے ڈبے میں آ لگی۔ اس ٹکراؤ میں تیز گام کی بارہ ، کوئٹہ ایکسپریس کی چار اور کراچی ایکسپریس کی تین بوگیاں الٹ گئی تھیں۔ ماہرین کے مطابق تیز گام کے ڈرائیور ہی اس حادثے کے سب سے اہم چشم دید گواہ ہیں اور وہی بتا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ماجرا ہوا تھا۔کونسا سگنل سبزتھا اور کونسا سرخ۔ خیر محمد اور نوید شاہ کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں حادثے کے دن سے غائب ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ خیر محمد کو حادثےمیں معمولی چوٹیں آئیں جبکہ نوید شاہ مکمل طور پر محفوظ رہے۔ سکھر ریلوے کہ سربراہ نذیر چوہدری نے خیر محمد اور نوید شاہ کے بارے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ انہیں فرصت ہی نہیں مل سکی کہ وہ ان کے بارے معلومات حاصل کرتے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ڈرائیور حفاظتی حراست میں ہیں اور تحقیقتات مکمل ہونے تک حکام شاید انہیں آزاد نہ کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||