ٹرین حادثہ: چار ہلاک، تیس زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی سے لاہور جانے والی نان سٹاپ ٹرین کو جہلم کے قریب حادثہ پیش آیا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار لوگ ہلاک اور تیس زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان حکام نے مرنے والوں کی تعداد چار بتائی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب خان شیرپاؤ نے تین افراد کےہلاک اور تیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق مرنے والوں کی تعداد چار ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق خوش قسمتی سے حادثے میں زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت صرف ایک بوگی گہری گھائی میں گری ہے جبکہ باقی نیچے گرنے سے بچ گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق جہلم کے قریب ٹرین حادثہ کے جائے وقوعہ پر گہرا اندھیرا ہے، ویرانہ ہے اور وہاں تک جانے والا راستہ کچا اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔ لاہور میں پاکستان ریلوے کے ہیڈ کوارٹرز میں حکام نے بتایا کہ حادثہ کا شکار ہونے والی ٹرین میں چھ سو اکیس مسافر سوار تھے جبکہ حادثہ کا شکار ہونے والی سات بوگیوں میں چار سو سے زیادہ مسافر ہوسکتے ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق جائے حادثہ ریلوے اسٹیشن سے ڈھائی کلومیٹر دور ویرانہ میں ہے۔ جائے حادثہ پر موجود عینی شاہد صحافی نوید بٹ کے مطابق جائے وقوعہ پر رات دس بجے تک کوئی ایمبولینس یا امدادی ٹیم نہیں پہنچی تھی۔ تاہم اسٹیشن تک دس ایمبولینسیں پہنچی ہوئی ہیں۔ حادثہ شام سات بج کر بیس منٹ پر ہوا جس کی اطلا ع ریلوے حکام کو ساڑھے سات بجے ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جائے حادثہ کو سڑک سے جانے والا راستہ کچا اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جس کے لیے جہلم سے فوج کے ٹرک سرچ لائٹس، جنریٹر اور کمبل لے کر روانہ ہوچکے ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق لاہور اور راولپنڈی سے چار ٹرینیں امدادی کارروائیوں کے لیے جائے حادثہ پر بھیجی گئی ہیں تاہم رات دس بجے تک وہ جائے حادثہ پر نہیں پہنچیں تھیں۔ لاہور اور راولپنڈی کے ٹریک پر ٹرینوں کی آمد ورفت معطل کردی گئی ہے جبکہ جہلم کے ضلعی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ چیف کنٹرولر ریلوے عبد الرحمن کے مطابق مسافر ٹرین میں چھ سو اکیس مسافر سوار تھے۔ٹرین دس بوگیوں پر مشتمل تھی ریلوے کنٹرول روم کے مطابق حادثہ جہلم سے چند میل کے فیصلہ پر واقع ترکی موڑ کے قریب پیش آیا۔ | اسی بارے میں گھوٹکی میں کیا دیکھا14 July, 2005 | پاکستان تیز گام کے ڈرائیور کہاں ہیں؟17 July, 2005 | پاکستان گھوٹکی حادثے کی رپورٹ طلب18 July, 2005 | پاکستان ٹرین کاحادثہ، 132 افرادہلاک 13 July, 2005 | پاکستان تین ٹرینیں کیسے ٹکرائیں؟13 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||