’کانوں سے بھتہ خوری کا خاتمہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی صوبائی حکومت نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ انہوں نے کوئٹہ کے قریب مارواڑ کے مقام پر واقع کوئلے کی کانوں سے مبینہ طور پر بھتہ لینے والے بلوچ قوم پرستوں سے علاقے کا قبضہ چھڑالیا ہے اور اب فرنٹیئر کور نے علاقے کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ یہ اعلان پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف نے مارواڑ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا اور کان کے مالکان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ کان مالکان کی ملکی سطح کی ایسو سی ایشن کے سربراہ غلام صابر نے بی بی سی کو بتایا کہ مارواڑ میں ایک سو سے زیادہ کوئلے کی کانیں ہیں جہاں دس ہزار مزدور کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مری، مینگل اور دیگر قبائل کے قوم پرستوں نے پانچ جون کو علاقے پر قبضہ کیا تھا اور کان مالکان سے پچاس روپے فی ٹن کے حساب سے بھتہ وصول کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کان مالکان چالیس سے پچاس لاکھ روپے ماہانہ بھتہ دیتے تھے لیکن حکومت نے چند روز قبل بھتہ خوروں کو بھگادیا ہے اور علاقے پر حکومتی کنٹرول بحال کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف نے اس موقع پر نام لیے بغیر بلوچ قوم پرست رہنماؤں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بلوچ عوام کے حقوق کی بات کرنے والے یہ نام نہاد رہنما ایک طرف اپنے ہی لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب علاقے میں بد امنی بھی پیدا کر رہے ہیں جس سے سرمایہ کار بلوچستان میں رقم نہیں لگاتے۔ اس موقع پر جلسے میں شریک مقامی بلوچ تو خاصے کم تھے لیکن کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور جوکہ زیادہ تر صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے ہیں وہ شریک تھے۔ ایک مزدور رہنما عالم زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں چار سو روپے فی ٹن کوئلہ نکالنے کا معاوضہ ملتا ہے اور پانچ سے دس تک مزدور ٹولیوں کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دس مزدور مشترکہ طور پر ایک دن میں پندرہ سے اٹھارہ ٹن کوئلہ نکالتے ہیں۔ عالم زیب نے بتایا کہ مقامی مزدور بہت کم ہیں اور زیادہ تر مزدور صوبہ سرحد کے ضلع شانگلہ، پشاور، ہزارہ اور دیگر علاقوں سے یہاں کام کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑ کے اندر سرنگ کھود کر ڈھائی سو سے چار ہزار فٹ نیچے کوئلہ ملتا ہے۔ مزدور رہنما نے بتایا کہ کئی مزدور آئے دن زخمی اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان کے مطابق زخمی مزدور کا علاج کرانا کان مالک کا ذمہ ہوتا ہے اور مرنے والے کے ورثا کو دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کے بھی وہ پابند ہوتے ہیں۔ غلام صابر کے مطابق فی ٹن کوئلہ نکالنے پر پیداواری لاگت پچیس سو روپے ہوتی ہے جبکہ بازار میں وہ پینتیس سو سے پونے چار ہزار روپے میں بکتا ہے۔ ایک کارکن انچارج نے اس موقع پر بتایا کہ بلوچ ’شرپسندوں‘ نے گزشتہ چند ہفتوں میں بیسیوں راکٹ فائر کیے ہیں لیکن اب انہیں مارواڑ سے بھگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرد ونواح کے علاقوں میں اب بھی اسی سے نوے کے قریب ’شدت پسند‘ موجود ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ کو بلوچ ’شدت پسندوں‘ سے برآمد کیے جانے والے بم، اسلحہ، بارودی سرنگ بچھانے کے آلات اور مواصلاتی نظام کے آلات بھی دکھائے۔ | اسی بارے میں بلوچ آپریشن: ہزارہ برادری کا احتجاج18 January, 2006 | پاکستان کوئٹہ: اقوام متحدہ کے دفاتر بند17 January, 2006 | پاکستان امریکہ میں مظاہروں کا اعلان15 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں پرتشدد کارروائیاں15 January, 2006 | پاکستان ’اقوام متحدہ مداخلت کرے‘15 January, 2006 | پاکستان پائپ لائن تباہ، ہلاکتوں کا الزام15 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||