BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 December, 2005, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نائب ناظمین کا انتخاب مکمل

نسرین جلیل
نسرین جلیل نے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں انصاف کے ساتھ نبھائیں گی
پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں اکاد کا واقعات کے علاوہ نائب ناظم کے انتخاب کا مرحلہ مجموعی طور پر پرامن طریقے سے مکمل ہو گیا ہے۔

صوبہ سندھ میں کراچی کی سٹی کونسل کے لیے متحدہ کی حمایت یافتہ حق پرست پینل کی نسرین جلیل نائب ناظمہ منتخب ہوگئی ہیں۔

پنجاب کے ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال میں پولیس نے نائب ناظم کے ایک امیدوار ملک تصور حسین کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔

پراچہ گروپ سے تعلق رکھنے والے ملک تصور کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ملک تصور کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں مخالفین نے اغوا کیا ہے ان کی غیر موجودگی میں ہونے والے الیکشن میں ان کے مخالف اور تحصیل ناظم کے حامی امیداور کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور میں نائب ناظم کے ایک امیدوار کو مبینہ طورپر پولیس نے حراست میں لیا ہے الیکشن کمیشن کے ایک افسر رانا اسلم نے بتایا کہ اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے تاہم ان کے بقول الیکشن عمل کو نہیں روکا گیا۔

ضلعی شیخوپور کی تحصیل فیروزوالہ میں متحارب گروپ کے حامیوں میں فائرنگ کے بعد الیکشن عمل عارضی طور پر روکا گیا پولیس نے درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور بھاری نفری متاثرہ علاقوں میں تعینات کی گئی۔

لاہور میں معمولی نوعیت کی ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ دیر کے لیے الیکشن عمل روکا گیا لیکن پھر شروع کر دیا گیا۔

پنجاب کے اب تک کے غیر حتمی نتائج کے مطابق زیادہ تر نشستوں پر مسلم لیگ ق کے حامیوں نے کامیابی حاصل کی ہے اور غیر جماعتی قرار دیے جانے والےان انتخابات میں پارٹی پوزیشن تقریباً وہی رہی جو ضلعی ناظمین کے انتخابات کے موقع پر تھی۔

اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ شو آف ہینڈ کے طریقہ کار کی وجہ سے پولیس کو اپنا منفی کردار ادا کرنے کا بھر پور موقع ملا ہے ان کا کہنا تھا ان انتخابات میں ووٹروں پر مختلف طرح کے دباؤ ڈال ڈال کر انہیں حکومتی حمایت یافتہ امیدواروں کے حق میں ہاتھ کھڑا کرنے پر مجبور کیا گیا۔

صوبہ سندھ میں کراچی کی سٹی کونسل کے لیے متحدہ کی حمایت یافتہ حق پرست پینل کی نسرین جلیل نائب ناظمہ منتخب ہوگئی ہیں۔

وہ کراچی کی پہلی نائب ناظمہ ہیں۔ انہوں نے دو سو پچپن کے ایوان میں سے ایک سو چوہتر ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مدمقابل اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار سعد غنی تھے، جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی اور پی پی پی میں انتخابی ڈیل کے نتیجے میں ناظم کے لیے نعمت اللہ خان اور نائب ناظم کے لیے سعد غنی کو مشترکہ امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

کراچی سٹی کونسل کا اجلاس بدھ کو جیسے ہی شروع ہوا تو اپوزیشن کے امیدوار سعد غنی نے احتجاج کیا اور کہا کہ ایوان میں جعلی کونسلر موجود ہیں ان کے کارڈ چیک کیے جائیں۔ ان کے مطابق پولیس ان کے کونسلروں کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہیں روکا گیا ہے۔

مطالبے پر عملدرآمد نہ ہونے پر اپوزیشن کے کونسلروں نے علامتی واک آؤٹ
کیا بعد میں ریٹرننگ افسر نے ہر کونسلر سے دستخط کروا کے ووٹ کا حق استعمال کرنے دیا۔

سعد غنی نے انتخابات کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امیدوار تھے اور انہیں بھی روکا گیا۔اس کے علاوہ کئی کونسلروں کو آنے نہیں دیا گیا۔

انہوں نے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیا اور بتایاکہ وہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔

متحدہ کی امیدوار نسرین جلیل کا کہنا تھا کہ انتخابات قانونی اور جائز طریقے سے ہوئے ہیں اوروہ کوشش کریں گی کہ سب فریقین کو ساتھ لےکر چلیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں انصاف کے ساتھ نبھائیں گی۔

اسی بارے میں
3 ضلعی، 8 تحصیل ناظم کامیاب
22 September, 2005 | پاکستان
نائب ناظمین کا انتخاب معطل
28 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد