جیکب آباد: انتخابی نتائج کالعدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے جیکب آْباد میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات میں حکومتی امیدوار کی دھاندلی تسلیم کرتے ہوئے نتائج کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر اور سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے جمعرات کو یہ حکم جاری کیا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 210 کی نشست سلیم جان مزاری کے مستعفی ہونے پر خالی ہوگئی تھی اور اس پر دس دسمبر کو ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضمنی انتخابات میں حکمران مسلم لیگ کے امیدوار میر غالب حسین ڈومکی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار میر عمران خان بجارانی کے درمیان مقابلہ ہوا۔ دوران انتخاب ریٹرننگ افسر کے مطابق حکومتی امیدوار نے وسیع پیمانے پر دھاندلی کی اور ٹھپے مار کر ڈبے بھرے گئے۔ ریٹرننگ افسر کی اس رپورٹ پر کمیشن کا جمعرات کواجلاس ہوا جس میں تفصیلی غور کے بعد نتائج کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق ووٹنگ کی شرح غیر معمولی ہونے پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ نتائج کے مطابق حکومتی امیدوار نے ڈیڑھ لاکھ کے قریب جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار نے سولہ ہزار آٹھ سو ووٹ حاصل کیے تھے۔ واضح رہے کہ صوبہ سندھ کی حکومت نے جیکب آباد ضلع کو توڑ کر اس میں سے کشمور نامی نیا ضلع بنایا اور سردار سلیم جان مزاری قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر ضلع ناظم منتخب ہوئے۔ حزب مخالف کے امیدوار عمران خان بجارانی نے اپنے حریف پر بڑے پیمانے پر حکومتی مشینری استعمال کرنے کے الزامات بھی لگائے تھے۔ | اسی بارے میں تشدد: 22 ہلاک، 150 زخمی25 August, 2005 | پاکستان انتخابی تشدد: 9 ہلاک 100 زخمی25 August, 2005 | پاکستان بلدیاتی انتخابات میں بیٹا بمقابلہ باپ13 September, 2005 | پاکستان ناظمین انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری06 October, 2005 | پاکستان ’فارورڈ بلاک‘ پھر سرگرم09 December, 2005 | پاکستان سندھ میں ضمنی انتخابات کاانعقاد09 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||