امن وامان: حکومت کی نئی پالیسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کی حکومت نے ایسے سینئرپولیس افسروں کو ان کے موجودہ عہدوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جرائم کی سرکوبی میں حکومت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں گے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کل صوبے بھر کے سنئیر پولیس افسروں کو لاہور طلب کرکے انہیں صوبائی حکومت کی اس نئی پالیسی سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلی چودھری پرویز الہی نے سول سیکرٹریٹ پنجاب میں پولیس افسروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوۓ انہیں ایک مہینے کی مہلت دی اور کہا کہ اس دوران وہ مفرور اور اشتہاری ملزموں کو گرفتار کریں اور جرائم میں کمی کرنےاقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ تیس دن بعد دوبارہ اسی طرح پولیس افسروں کا اجلاس طلب کرکے ہر ضلع کی پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور مطلوبہ نتائج فراہم نہ کرنےو الے پولیس افسروں کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دیاجائےگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تھانے کا نظام تشویش ناک حد تک خرابیوں کا شکار ہے اور وہ یہ تسلیم کرنے کے تیار نہیں ہیں کہ کسی تھانے کے سٹیشن ہاؤس آفیسر یعنی ایس ایچ او کو اپنے علاقے کے جرائم پیشہ افراد کے کوائف اور سرگرمیوں کا علم نہیں ہوتا۔ تاہم وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ان تمام باتوں کے باوجود ضلعی پولیس افسران معاملات کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ چودھری پرویز الہی نے تھانوں میں متعین ایس ایچ او حضرات کے تقرر تبادلے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار ضلعی پولیس افسروں کو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان سے کام لینا ان کے سنیئر افسروں کی ذمہ داری ہے اس میں ناکامی پرضلعی پولیس افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس سینئر پولیس افسروں کو بتایا گیا کہ آئندہ ان کا کارکردگی کاتعین مجرموں کی گرفتاری اور مسروقہ سامان کی بازیابی پر مبنی اعدادوشمار کے ذریعے کیا جائے گا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ پولیس کا کام محض مجرموں کی گرفتاری پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ ان کا اصل کام بہترین تفتیش کرکےگناہ گار کو عدالت سے سزا دلوانا ہے۔ وزیر اعلی نے کہاکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک شریف شہری تھانے کا رخ کرتے ہوئے گھبراتا ہے انہوں نے کہا کہ عوام میں پولیس کا امیج کارکردگی میں اضافے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کے حوالے سے اس وقت مطمئن ہونگے جب پنجاب کے ایک ایسے عام شہری کی جس کے پاس کوئی سفارش نہ ہو، داد رسی ہوسکے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت بھی موجود تھے انہوں نے کہاکہ حکومت کو ایف آئی آر کے اندراج میں کمی کے رجحان پر بھی تشویش ہے اور آئندہ حکومت اس بات کا جائزہ بھی لے گی کہ ایک ماہ کے دوران عدالتوں کی طرف سے جاری ہونے والے احکامات کے بعد کتنی ایف آئی آر یعنی ابتدائی انفارمیشن رپورٹس درج کی گئی ہیں۔ | اسی بارے میں اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ06 July, 2005 | پاکستان جنوبی پنجاب: فائرنگ، جھگڑے 18 August, 2005 | پاکستان پنجاب کے گیارہ اضلاع میں فوج22 August, 2005 | پاکستان پنجاب: 3 ضلعوں میں رینجرز تعینات03 October, 2005 | پاکستان گوجرہ: طلبہ اور ٹرانسپورٹرز میں تصادم23 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||