BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 November, 2005, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوجرہ: طلبہ اور ٹرانسپورٹرز میں تصادم

پبلک ٹرانسپورٹ
ایک عرصہ سے طلبہ اور ٹرانسپورٹرز کا تنازعہ حل طلب ہے
پاکستانی پنجاب کے ایک شہر گوجرہ میں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے اہلکاروں، طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا جس میں متعددافراد زخمی ہوگۓ، جبکہ کئی بسوں اور ویگنوں کے شیشے توڑ دیےگئے۔ اس تصادم کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

اس کشیدگی کا آغاز پیر کے روز گونمنٹ ڈگری کالج گوجرہ میں سال اول کے طالبعلم محمد وقاص کی ہلاکت سے ہوا جو بس تلے آ کر کچلا گیا تھا۔

لاہور کے جنوب مغرب میں تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہرگوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل ہے۔ یہاں کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس احمد نواز چیمہ نے بتایا کہ ہنگامے کے بعد ایک درجن کے قریب طلبہ اور ٹرانسپورٹ کمپنی کے ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

گورنمنٹ ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد ظفر کاہلوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پرسوں ایک نجی بس کے کنڈیکٹر نے مبینہ طور پرایک طالبلعم کو دھکا دیکر بس سے اتارنے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ طالبلعم اس بس کے نیچے آ کر ہلاک ہوگیا‘۔

اس طالبعلم کے سوگ میں ایک روز کالج بند رہنے کے بعد آج کھلا تو طلبہ میں اشتعال پایا جا رہا تھا۔ طلبہ کے ایک گروپ کا بس اڈہ پر ٹرانسپورٹروں سے تصادم ہوا۔

پولیس کے مطابق ساٹھ کے قریب طلبہ نے بسیں توڑنے کی کوشش کی اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ جواباً ٹرانسپورٹ کمپنی کے ملازمین نے بھی ان پر حملہ کیا ۔

مقامی لوگوں کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے چند طلبہ کو یرغمال بنا لیا، جنہیں پولیس نے زخمی حالت میں بازیاب کروایا۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس موقع پر لاٹھی چارج بھی کیاگیا لیکن پولیس کے ذرائع نے اس کی تردید کی ہے۔

پولیس کے مطابق اس دو طرفہ لڑائی میں چھ کے قریب افراد زخمی ہوۓ ۔
تاہم معمولی زخمیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

کالج کے پرنسپل نے دو روز کے لیے کالج بند کرنے کی سفارش کی ہے اور نوٹس بھی لگا دیا گیا، تاہم پرنسپل کا کہنا ہے کہ ابھی انہیں اس سلسلے میں اعلی حکام سے منظوری نہیں ملی جس کے نتیجے میں چھٹی کے نوٹس تو اتار دیےگئے ہیں لیکن طلبہ کو چھٹی کی منسوخی کی اطلاع نہیں دی جاسکی۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز انہیں بس میں سوار نہیں ہونے دیتے اور ان سے بدسلوکی کرتے ہیں اور اسی بدسلوکی کے نتیجے میں ایک طالبعلم کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ جبکہ ٹرانسپورٹرز کے مطابق طلبہ انہیں کرایہ نہیں دینا چاہتے۔

کل لاہور میں بھی ایک طالبلعم کی بس تلے ہلاکت کے بعد پر تشدد مظاہرے ہوۓ جن کے بعد پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس ضیاء الحسن خان نے اعلان کیا ہے کہ لاہور کی تمام نجی بسوں کے ڈرائیوروں کا دوبارہ ڈرائیونگ ٹیسٹ ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد