’فوجی سےجھگڑا‘: رکن اسمبلی پرمقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکی قانون ساز اسمبلی کےایک رکن مرتضی گیلانی کے خلاف ایک فوجی افسر کے کپڑےگندے کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظفرآباد سے رکن اسمبلی مرتضی گیلانی ایک گاڑی میں بیٹھ کر مظفر آباد کی ایک سڑک سے گزر رہے تھے جس سے سادہ کپڑوں میں ملبوس پاکستان فوج کے میجر پر پانی کے چھینٹے پڑے جس سے وہاں جھگڑا ہو گیا۔ پولیس نے پاکستان فوج کے میجر جیند کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مرتضی گیلانی جو اس واقعے کے بعد سے روپوش ہیں نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے گھر پر چھاپے مارے جار رہے ہیں اور ان کے بھائیوں اور بہنویوں کو تھانے بٹھایا لیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ’چھاپہ مارنے والے‘ ان کی گاڑیاں لے گئے ہیں۔ مرتضی گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ چار دن پہلے ہونے والے ایک ’چھوٹے‘سے واقعے کوایک بہت بڑا ایشو بنا دیا گیا ہے۔
مرتضی گیلانی نے الزام لگایا کہ انہیں ان لوگوں سے خطرہ ہے اور یہ بھی کہ اس واقعے کے بعد سے ان کے خاندان پر بہت دباؤ ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز طاہر محمود قریشی نے بات کرنے سے انکار کیا اور صرف کہا کہ’یہ ایک مجرمانہ حملے کا کیس ہے جسے بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے‘۔ واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے مرتضی گیلانی نے بتایا کہ زلزلے کے بعد ان کے حلقے کے لوگوں کو پانی کا مسئلہ درپیش تھا۔ لوگ ان کے گھر آئے تھے کہ پانی کے ٹینکروں کا بندوبست کر دیں۔ مرتضی گیلانی کے مطابق وہ ان ا فراد کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر پانی کے لیے ایکس سی این کے دفتر جا رہے تھے تو سامنے سے کوئی صاحب سادہ کپڑوں میں آرہے تھے۔ مرتضی گیلانی نے کہا کہ ان کی گاڑی سے پانی کے چھینٹے اڑ کر ان صاحب کے لباس پر جا پڑے۔ ’چھینٹے پڑنے سے ان صاحب نے مجھے گالیاں دیں جو برداشت سے باہر تھیں‘۔ مرتضی گیلانی نے کہ انہوں نے نیچے اتر کے سادہ کپڑوں میں ملبوس فوجی افسر سے کہا کہ ’ آپ بڑے بدتمیز آدمی ہیں۔ یہ مال روڈ نہیں ہے۔ جس پر کہ آپ کو چھینٹیں نہیں پڑیں گی یہ زلزلے سےمتاثرہ علاقہ ہے۔اس میں اگرآپ پر چھینٹیں پڑ گئیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ میں آپ کے لباس کو ٹھیک کروا دوں گا‘۔ توان سادہ کپڑوں میں ملبوس صاحب نے کہا کہ ’الو کے پٹھے بکتے ہو‘۔ اس دوران مرتضی کی ان صاحب کے ساتھ مبینہ طور پر چھوٹی موٹی تلخی کلامی ہوئی۔ ان کے ساتھ بھی سول کپڑوں میں چار آدمی تھے۔جنہوں نے مبینہ طور انہیں مارنا شروع کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق مرتضی گیلانی کے ساتھ بھی کچھ لوگ ان کی گاڑی میں موجود تھے ان کی فریق مخالف سے ہاتھا پائی ہوئی۔ رکن اسمبلی مرتضیٰ گیلانی کے مطابق سنیچر کو انہیں رات ساڑھے بارہ بجے پتہ چلا کہ ان کے خلاف پرچہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پرچہ درج کرانے والے کا نام میجر جنید بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ فوج کی بہت عزت کرتے ہیں اور انہیں علم ہے کہ فوج کے ساتھ تعلقات کیسے رکھے جاتے ہیں۔ ان کے بقول کشمیر میں بنگلہ دیش کی طرح کے آثار نظر آرہے ہیں۔ | اسی بارے میں قانون کے محافظ پر جنرل کا غصہ18 October, 2003 | پاکستان ’فوجی نے کہا ملک چھوڑ دو‘07 September, 2005 | پاکستان ’ فوجی ایک بھی بہت ہوتا ہے‘02 April, 2004 | پاکستان امداد :’فوجی،پٹوری رشوت مانگتے ہیں‘16 November, 2005 | پاکستان ’فوجی ہیڈکوارٹر یا جرنیلی رہائش ‘03 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||