فاٹا میں دھماکہ، بارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹانک سے تیس کلومیٹر مغرب میں واقع سکاؤٹ قلعہ جنڈولہ سے ملحقہ ہوٹل میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ صحافی دلاور خان وزیر کے مطابق دھماکہ صبح نو بجکر چالیس منٹ پر ہوا اور اتنا شدید تھا کہ اس سے قریبی دکانوں کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دلاور خان وزیر کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم ملبے سے اب تک بارہ لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ چالیس افراد کو زخمی حالت میں علاقے کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔ جس ہوٹل میں دھماکہ ہوا وہ سکاؤٹس قلعہ جنڈولہ سے جڑا ہوا ہے۔ یہ علاقے فوج کی ملکیت ہے۔ صحافی دلاور خان وزیر کے مطابق پولیٹکل انتظامیہ نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ فوج کے جوان اور دیگر رضاکار دھماکے کی جگہ پہنچ گئے ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے دھماکے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد اسی جگہ ایک اور دھماکہ بھی ہوا جس سے ہونے والے نقصان کا ابھی تک اندازہ نہیں ہو سکا۔ تاہم صحافی دلاور خان وزیر کے مطابق اس جگہ سے زوردار دھماکے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق گیارہ بجے ہونے والا دھماکہ کوئی علیحدہ واقعہ نہیں بلکہ ہوٹل سے ملحقہ اسلحہ کے دکانوں میں گولہ بارود پھٹنے سے ہوا۔ | اسی بارے میں القاعدہ کی مدد نہ کرنے کا وعدہ04 December, 2005 | پاکستان فاٹا کے صحافی برآمد نہ ہوسکے06 December, 2005 | پاکستان ’غیرملکی طلبہ کواجازت نہیں‘07 December, 2005 | پاکستان جنوبی وزیرستان القاعدہ سے پاک28 May, 2005 | پاکستان وانا سے چار فوجی جوان اغواء07 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||