BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 November, 2005, 19:23 GMT 00:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی وفد اسرائیل پہنچ گیا‘
پاکستانی اوراسرائیلی وزراء خارجہ
اس سال پاکستانی اوراسرائیلی وزراء خارجہ کی ترکی میں ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعقات کی جانب پہلا کھلا قدم تھا۔
ایک سو چوہتر افراد پر مشتمل ایک غیر سرکاری پاکستانی وفد اسرائیل پہنچ گیا ہے۔

قطر کے عربی ٹی وی چینل الجزیرہ کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس وفد کی نوعیت کیا ہے تا ہم کچھ مبصرین کا کہنا ہے وفد میں مذہبی رہنما، کاروباری افراد اور شعبہ تدریس سے متعلق لوگ شامل ہیں۔

اس وفد کے اسرائیل آنے کی خبر کئی دنوں سے چل رہی تھی لیکن پاکستان نے سرکاری طور پر اس کی تردید کردی تھی۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وفد سعودی حکومت اور فلسطینی حکام کی تائید سے اسرائیل گیا ہے لیکن اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ جب پاکستانی وزیرخارجہ خورشید قصوری نے اسرائیلی وزیر خارجہ شلوم سے ترکی میں ملاقات کی تھی تو تب بھی حکومت پاکستان نے دعوٰی کیا تھا کہ انہوں نے ایسا فلسطینی حکام کی تائید سے کیا ہے لیکن بعد میں فلسطینی حکام نے اس کی تردید کر دی تھی۔

اس وقت فلسطین کے خارجہ امور کے نگران نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان متنازعہ معاملات طے نہیں ہو جاتے پاکستان جیسے کلیدی اسلامی ملک کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانا مایوسی کی بات ہے۔

ادھر سعودی عرب نے تجارت کی عالمی تنظیم ڈبلیوٹی او کا مکمل ممبر بننے کے دستاویزات پر دستخط کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے ڈبلیو ٹی او کا ممبر بننے کے لیے یہ ضروری خیال کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارت پر پابندیاں ختم کرے گا۔

اگرچہ سعودی عرب کا سرکاری موقف یہی ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں صرف دوسرے اور تیسری درجے کی کم کڑی شرائط تسلیم کی ہیں لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ڈبلیو ٹی او کا ممبر بننے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تمام پابندیاں ختم کی ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی طرح مشرق وسطٰی کے ممالک کی حکومتوں پر ان کی عوام کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا کیونکہ ان ممالک میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے یا بڑھانے پر زیادہ تر عوام خوش نہیں ہیں۔

ان حالات میں ایک پاکستانی وفد کے اسرائیل جانے کو عرب دنیا میں عوامی سطح پر منفی نظر سے دیکھا جائےگا بلکہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ مسلمان ممالک میں لوگ پاکستان کو جس قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اس پر بھی برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
پاکستان: مذمت نہیں افسوس
26 September, 2005 | پاکستان
اسرائیل مالی مدد دے سکتا ہے
15 October, 2005 | پاکستان
پاک اسرائیل رابطوں کی کہانی
01 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد