اسرائیل مالی مدد دے سکتا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اگر صدرِ پاکستان کے فنڈ میں کوئی مالی امداد دینا چاہے تو وہ قبول کرلی جائے گی اور اس فنڈ میں کسی بھی ملک کی جانب سے امداد دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ سنیچر کے روز رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتہ قبل آٹھ اکتوبر کو پاکستان میں آنے والے شدید زلزلے کے ہزاروں متاثرین کی براہ راست مدد کے لیے تاحال اسرائیل نے از خود یا کسی دوست ملک کے ذریعے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شوکت عزیز کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے واضح کردیا تھا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک صدارتی فنڈ میں رقم جمع کراسکتا ہے۔ تسنیم اسلم نے اس تاثر کو رد کیا جس کے مطابق کہا جارہا تھا کہ ترکی کی معرفت اسرائیل نے پاکستان کو کوئی امداد بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ اسرائیل چاہے تو پاکستان کے صدارتی فنڈ میں کوئی رقم جمع کرا سکتا ہے یا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی اداروں کی معرفت امدادی سامان پاکستان بھیج سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے پاکستان کے سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں اور براہِ راست وہ پاکستان کو اشیاء نہیں بھیج سکتا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے درمیان کچھ ہفتے قبل ترکی میں ایک باضابطہ ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں ممالک میں یہ پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ تھا۔ پاکستان میں زلزلے کے فوری بعد اسرائیلی امداد قبول کرنے کے بارے میں پاکستان حکومت نے جو موقف اختیار کیا تھا اب اس میں خاصی نرمی پیدا ہوگئی ہے جس پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ممالک میں براہ راست رابطے بحال کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||