BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 October, 2005, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت سلطان: کارروائی کامطالبہ

شوکت سلطان
صوبائی وزیر کے مطابق فوج کے ترجمان آٹھ اکتوبر کو زلزلہ کے وقت ناشتہ کر رہے تھے۔
سرحد اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے چند اراکین نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے خلاف احترام رمضان کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انگریزی کے ایک اخبار کے اتوار کے شمارے میں پہلے صفحے پر شائع ایک انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ شوکت سلطان آٹھ اکتوبر کے روز زلزلے کے وقت ناشتہ کر رہے تھے۔

سرحد اسمبلی کے آج کے اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کے صوبائی وزیر اوقاف مولانا امان اللہ حقانی نے ایک نکتہ اعتراض پر یہ مسلئہ اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اخباری انٹرویو کے مطابق شوکت سلطان ناشتہ کر رہے تھے جو ان کے بقول احترام رمضان آرڈینس کی خلاف ورزی تھی لہذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

حزب اختلاف کے اراکین نے تاہم اس کی مخالفت کی اور کہا وہ بیمار بھی ہوسکتے ہیں یا اس کی وجہ کوئی اور بھی ہوسکتی ہے۔ دوسرا ان کا موقف تھا کہ یہ اخباری خبر ہے جس کی بنیاد پر وہ ایسا مطالبہ نہیں کر سکتے۔

سپیکر اکرام اللہ شاہد نے اس موقعہ پر اپنی رولنگ میں اسے ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس مسلئہ پر مزید بحث کی اجازت نہیں دی۔

بعد میں حزب اختلاف کے رہنما شہزادہ گستاسپ خان کی جانب سے ایک قرار داد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لی جس میں صوبائی اور وفاقی حکومت سے صوبے کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں متاثرین کے تمام قرضہ جات اور ٹیکس معاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرار داد پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان متاثرین کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور وہ یہ مالی ذمہ داریاں نبھانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ قرار داد میں متاثرین کو آسان شرائط پر قرضے دینے کی بات بھی کی گئی تاکہ یہ لوگ اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہوسکیں۔

ایوان میں آج بھی زلزلے پر اراکین نے بحث جاری رکھی اور فوج اور نوکرشاہی کے کردار پر کڑی نکتہ چینی کی۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے عبدل اکبر خان نے کہا کہ جب اسمبلی اراکین اپنی ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کے لئے وقف کر سکتے ہیں تو فوج، نوکر شاہی یا عدلیہ کیوں نہیں۔

ایم ایم اے کی صابرہ شاکر نے کہا کہ علاقے میں فوج ماسک لگا کر اور نوکر شاہی قلف شدہ کپڑے پہنے گھوم رہے تھے جبکہ اصل متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ انہوں نے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لئے جلد از جلد سروے شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں
حسبہ کا بل کیا ہے؟
11 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد