| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہِ رمضان: اسلام کا بول بالا
رمضان کی آمد آمد ہے اور صوبہ سرحد میں چونکہ ایک اسلامی حکومت کے دعویدار اقتدار میں ہیں لہذا کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہے۔ قصہ مختصر چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے احترام رمضان میں فحاشی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبہ کے سینما مالکان یوں بھی اس مہینے آرام کیا کرتے تھے سو اس مرتبہ بھی کریں گے۔ کیبل آپریٹروں نے بھی با برکت تصور کیے جانے والے اس مہینے کے دوران موسیقی کے چینل بند کرنے کا وعدہ کیا ہے اس پر بھی پولیس نے گانوں اور فلموں کی سی ڈیز کے ہزاروں ڈبے جلا کر مسلمانوں کو فحاشی سے بچانے کے فرض کا اعادہ کیا اور اس طرح بقول حکام اس ماہ کے دوران لوگوں کا اخلاق بگڑنے سے بچا لیا گیا۔ جعمرات کو پولیس نے پُھرتی دکھاتے ہوئے پشاور کے بڑے باڑہ بازار میں ایک ہزار کیسٹوں، سی ڈیز اور تصاویر پر مشتمل فحش مواد قبضے میں لے کر نظرِ آتش کر دیا۔ اس موقعہ پر پولیس کے ایک اہلکار محمد ادریس نے بتایا کہ تمام تھانوں کو اس ماہ کے لئے خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس ماہ کے دوران ٹریفک پولیس کو بھی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ مسافر گاڑیوں میں فحش تصاویر اور موسیقی کی اجازت نہیں ہوگی۔ کچھ لوگوں کے خیال میں حکومت کی تمام توجہ فحاشی کے خاتمے پر تو مرکوز ہے لیکن اس ماہ کے آغاز سے پہلے ہی اشیاء خورو نوش کی قیمتوں میں جو ہوش ربا اضافہ شروع ہو چکا ہے اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر خوراک فضل ربانی ایڈووکیٹ نے تو گذشتہ روز قیمتوں پر قابو رکھنے کی ذمہ داری ضلعی حکومتوں پر ڈال دی کہ پرائس ریو کمیٹیاں ان کے زیرانتظام ہیں۔ صوبائی حکومت نے آٹے کی قیمت میں فی کلو ایک روپے کمی کا اعلان کیا ہے لیکن تاجروں نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ آٹے کے نرخ تو پنجاب مقرر کرتا ہے اور وہ کھلے بازار سے اسے خریدتے ہیں۔ ماہ رمضان برکتیں لوٹنے کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے لیکن بظاہر اس کے آغاز سے پہلے ہی جس کا جتنا بس چل رہا ہے وہ اس کے مطابق عام صارفین کو لوٹنے کی مقدور بھر کوشش کرتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||