برمنگھم فسادات میں ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برمنگھم کے لوزیل کے علاقے میں فسادات کے دوران ایک شخص ہلاک جبکہ ایک پولیس آفیسر زخمی ہو گیا ہے۔ یہ فسادات اس وقت ہوئے جب علاقے کے لوگ ایک چودہ سالہ لڑکی پر جنسی حملے کی مذمت کے لیے ایک مجلس میں شرکت کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ہجوم نے وہاں پر موجود پولیس پر بوتلیں اور پتھر پھینکے۔ دس کے قریب زخمیوں کو ہسپتال لیجایا گیا ہے۔ علاقے میں تناؤ اسی وقت ہو گیا تھا جب یہ اطلاعات آئی تھیں کہ ایک نوجوان لڑکی پر کچھ لوگوں نے جنسی حملہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والی لڑکی پر گزشتہ منگل کو حملہ کیا گیا۔ ابھی تک زیاتی کا نشانہ بننے والی لڑکی سامنے نہیں آئی ہے۔ لوزیلز روڈ پر واقع ایک گرجے میں ہونے والی میٹنگ سے دو سینیئر پولیس والوں اور پیری بار کے ممبر پارلیمان خالد محمود نے خطاب کیا۔ بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے خالد محمود نے کہا کہ اگر جرم ہوا ہے تو گواہوں کو ضرور سامنا آنا چاہیئے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نوجوان لڑکی کا تعلق کس برادری سے ہے لیکن یہاں ایشیائی گینگوں اور ایفرو کیریبیائی لوگوں کے درمیان جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||