BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 October, 2005, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تجویز موصول ہی نہیں ہوئی: بھارت

کنٹرول لائن پر بھارتی فوجی
پاکستانی صدر پرویز مشرف نے لائن آف کنٹرول کھولنے کی بات کی تھی

بھارت نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کھولنے سے متعلق پاکستان کی طرف سے اسے رسمی طور پر کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ جب تک اس بارے میں باقاعدہ تجویز نہیں ملتی اس پر عمل ممکن نہیں ہے البتہ بھارت کی فوج کا کہنا ہے کہ اس بارے میں وہ حکومت کی ہدایات کی منتظر ہے۔

نئی دلی میں وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ’لائن آف کنٹرول کوکھولنے کے بارے میں اسلام آباد کی طرف سے سرکاری طور پر کوئی تجویز نہیں آئي ہے اور حکومت کی طرف سے کچھ ملنے کے بعد ہی اس پر کام آگے بڑھ سکتا ہے۔‘

ادھر فوج کے سربراہ جسونت جوگندر سنگھ نے دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کھولنے کے مسئلے پر فوج نے اپنا موقف حکومت پر واضح کردیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر فوج نے اپنی سفارشات حکومت کو بھیج دی تھیں اور ’اب ہمیں حکومت کی جانب سے مزید ہدایات کا انتظار ہے کہ آیا اس بارے میں پاکستان کا کیا جواب ہوگا۔ پاکستان کے جواب کی بنیاد پر حکومت کی طرف سے جو بھی ہدیات ملیں گی فوج اس پر عمل کے لیے تیار ہے‘۔

ادھر وزارت خارجہ کے ترجمان شیام سرن سے ایک پریس کانفرنس کے درمیان جب لائن آف کنٹرول کے بارے میں پوچھا گيا تو ان کا کہنا تھا ’اس بارے میں پاکستان کی طرف سے کوئي بات ہی نہیں ہوئی ہے تو پھر اس مسئلے پر بھارت کا ردعمل کیسے ہوسکتا ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد