BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 September, 2005, 07:50 GMT 12:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آصف چھوٹو سے تفتیش جاری

آصف چھوٹو
مبینہ طور پر کالعدم لشکر جھنگوی کے القاعدہ تنظیم کے ساتھ تعلقات ہیں
پاکستان میں انٹیلی جنس حکام نے جمعرات کے روز بتایا کہ کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ آصف چھوٹو سے ہونے والی ابتدائی تفتیش کے دوران انہیں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں لشکر جھنگوی کے مجوزہ حملوں کے متعلق بھی پتہ چلا ہے اور ان سے ملنے والی معلومات کی بنا پر مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔

حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ آصف چھوٹو سے ملنے والی معلومات کی بنا پر راولپنڈی کے ایک علاقے میں چھاپہ مارکر ان کے کچھ ساتھیوں کو بھی پکڑا گیا ہے۔گرفتار ہونے والے ان کے ساتھیوں میں ایک کا نام راشد عرف شاہد ستی بتایا جاتا ہے۔

حکام آصف چھوٹو اور ان کے دیگر گرفتار ساتھیوں کے متعلق مزید کچھ بتانے سے گریزاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی تفتیش متاثر ہوسکتی ہے۔

انٹیلی جنس حکام کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد کی کئی کارروائیوں میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کے ایک گروہ کے سربراہ آصف چھوٹو کو اسلام آباد کے قریب موٹر وے سے چند روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن ان کی گرفتاری کی خبر بدھ کے روز منظر عام پر آئی ۔

حکام کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کا تعلق القاعدہ سے رہا ہے اور آصف چھوٹو افغانستان میں تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ اس تنظیم کے سابق رہنما ریاض بسرا جب مارے گئے تھے تو ان کی تنظیم دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی اور ایک دھڑے کا سربراہ آصف چھوٹو بن گیا تھا۔

کراچی کے سٹی پولیس چیف طارق جمیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ سال امام بارگاہوں پر ہونے والے کئی بم حملوں میں آصف چھوٹو انہیں مطلوب ہیں۔

آصف چھوٹو کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سال سیالکوٹ کی امام بارگاہوں پر ہونے والے حملے میں بھی ملوث ہیں۔ جس میں ان کے مطابق تیس کے قریب افراد مارے گئے تھے۔

اس ضمن میں جب وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی اور کہا کہ وہ اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے فی الوقت قاصر ہیں۔

ماضی میں بھی جب کچھ سرکردہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا تو فوری طور پر وفاقی وزراء نے تصدیق نہیں کی تھی۔ جبکہ چند روز بعد پریس کانفرنس میں تفصیلات بتائی جاتی رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے اور شدت پسندوں کے خلاف جاری حکومتی کارروائیوں کو آصف چھوٹو اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری سے کافی تقویت ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد