BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 September, 2005, 23:52 GMT 04:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیور نے ناک، ہونٹ کاٹ دیئے

ملزم حسن نے پہلے فائرنگ کر کے آمنہ اور اس کے بھائی کو زخمی کیا۔
پنجاب کے نیم قبائلی ضلع ڈیرہ غازی خان کے ایک دور افتادہ گاؤں جوہلو کروہ کی رہائشی ستائیس سالہ آمنہ کا ناک اور ہونٹ اس کے دیور نے گزشتہ منگل کے روز اس لیے کاٹ دیئے کیونکہ اس نے اپنے شوہر کے خلاف ایک مقامی عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ کر رکھا تھا۔

تین بچوں کی ماں آمنہ اپنے دعوے کے سلسلے میں عدالت سے پیشی بھگتا کر اپنے بھائی اکبر کے ساتھ سائیکل پر گھر واپس آرہی تھی کہ گاؤں یارو کھوسہ کے قریب اس کے دیور حسن نے ان پر فائرنگ کردی جس پر دونوں زخمی ہوکرگر پڑے۔ حملہ آور نے بعد میں زخمی آمنہ کا ناک اور دونوں ہونٹ استرے کی مدد سے کاٹ کر پھینک دیئے اور موقع سے فرار ہوگیا۔

زخمی آمنہ نے اس بری حالت میں بھی زمین سے اپنے کٹے ہوئے اعضاء ڈھونڈ کر غالباً اس امید پر دوپٹے میں باندھ لیے کہ شاید یہ دوبارہ جوڑ جائیں گے۔ تین روز گزرنے کے بعد وہ اب بھی اس کے پاس ایک پوٹلی میں رکھے ہوئے تھے۔وہ ہسپتال تک انہیں برف میں رکھ کر لائی تھی۔

’ناک کاٹنے کا مقصد ذلیل کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ (جس کا ناک کاٹا گیا ہو) کسی کو شکل دکھانے کے قابل نہ رہے‘، محمد یوسف کھوسہ نے بتایا جو کہ ڈیرہ غازی خان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں داخل ایسے ہی ظلم کا شکار اپنی بھتیجی آمنہ کی تیمار داری کے لیے آئے ہوئے تھے۔

لیکن آمنہ کو ابتدائی طبی امداد دینے والے ڈاکٹر خالد وحید کا کہنا ہے کہ یہ بے جان ٹکڑے اب کسی کام کے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ناک کاٹنے والے واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں اور متاثرہ افراد میں عموماً خواتین ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان میں پلاسٹک سرجری کی سہولت نہ ہونے کے باعث متاثرہ افراد کو باقی زندگی اسی طرح بغیر ناک اور ہونٹوں کے گزارنا پڑتی ہے۔

تو کیا آمنہ کو اس ظلم کا شکار صرف اس لیئے ہونا پڑا کہ اس نے طلاق مانگی تھی ؟ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں۔

محمد یوسف کے مطابق آمنہ کی شادی آٹھ سال قبل اپنے ہی قبیلے کہ ایک شخص عباس سے ہوئی تھی۔ دونوں خاندانوں نے یہ شادی ’وٹہ سٹہ‘ یعنی رشتے کے بدلے رشتہ کے رواج کے تحت طے کی تھی۔ آمنہ کے بدلے میں اس کی نند ہانی مائی کی شادی اس کے بھائی یاسین سے ہوئی تھی۔جبکہ آمنہ کی بہن ہاجرہ کی شادی (ملزم) حسن سے ہوئی تھی اور اس کے بدلے آمنہ کے بھائی مصطفیٰ سے اس کی ایک اور نند کی شادی ہونا تھی۔ تا ہم مصطفیٰ شادی سے پہلے ہی انتقال کر گیا اور یوں دوسری جانب ایک رشتے کا ’ادھار‘ باقی تھا۔

آمنہ کی نند اور بھابھی ہانی کے ہاں شادی کے سات برس تک کوئی اولاد نہ ہوئی اور چند ماہ قبل اس نے اپنے سسر کے خلاف زیادتی کی کوشش کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کرایا اور اپنے میکے جا کر رہنا شروع کردیا۔

ایک تو دوسرے فریق نے پہلے ہی ایک رشتے کا قرض چکانا تھا اوپر سے وٹے سٹے میں آئی ہانی بھی ناراض ہوکر میکے بیٹھ گئی۔ جوابی کاروائی کے طور پر آمنہ کو اس کے والدین نے اپنے گھر بٹھا لیا اور بعد میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ بھی کردیا گیا۔

آمنہ کی بہن ہاجرہ ابھی بھی اپنے سسرال میں ہے جبکہ اس کا شوہر حسن واردات کرکے قبائلی علاقے میں روپوش بتایا جارہا ہے۔ جبکہ آمنہ کے بھائی اکبر کی دونوں ٹانگیں حسن کی فائرنگ سے ٹوٹ گئی ہیں۔ محمد یوسف کے مطابق ٹانگوں پر فائرنگ کرنے کا مقصد اکبر کو طلاق کے مقدمے کی پیروی کے لیے عدالت کی طرف آنے جانے سے روکنا تھا۔

آمنہ کے دو بچے اس کے اپنے پاس جبکہ ایک اس کے شوہر کے پاس ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد