پانچ دن بعد انتخابی پرچیاں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں کراچی سمیت دس اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے پانچ دن کے بعد چار مقامات سے انتخابی پرچیاں اور بیلٹ باکس برآمد ہوئے ہیں۔ ان کی گمشدگی کی پولیس کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ بیلٹ باکس جعلی ہوسکتے ہیں۔ لیاری میں منگل کے روز جنرل اسپتال کے قریب کچرا منڈی سے انتخابی پرچیوں کی چار کاپیاں ملی ہیں جن کو جلانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ کچھ پرچیاں جل چکی ہیں۔ لیاری میں چاکیواڑہ پولیس کے اے ایس آئی اسلم کا کہنا ہے کہ ان انتخابی پرچیوں کا رنگ سبز ہے جبکہ ان کی گمشدگی کی کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی گئی تھی۔ جمشید ٹاؤن کے علاقے یونین کونسل نو بتول اسکول سے چار خالی بیلٹ باکس برآمد ہوئے ہیں۔ بریگیڈ پولیس کے اے ایس آئی قمر زمان نے بی بی سی کو بتایا کے انتخابی عملہ ڈبے بھول گیا تھا جو بعد میں انہوں نےمنگوالیے، اس سے قبل ان کی گمشدگی کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اسی طرح صدر ٹاؤن کے علاقے گذری کے گل حسن لاشاری اسکول سے بڑی تعداد میں انتخابی پرچیاں برآمد ہوئی ہیں جو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ گذری پولیس کے سب انسپکٹر مظفر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ گل حسن اسکول کے چوکیدار نے اطلاع دی تھی کے اسکول کی پانی کی ٹنکی میں کچھ رنگین کاغذ پڑے ہیں۔ پولیس نے پہنچ کر ان کو تحویل میں لے لیا۔ اے ایس آئی کے مطابق ان انتخابی پرچیوں کا رنگ سبز ہے اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان انتخابی پرچیوں کی گمشدگی کی ان کے پاس کوئی رپورٹ درج نہیں ہے نہ ہی ان کے برآمد ہونے کے بعد کوئی مقدمہ درج ہوا ہے۔ سندھ کے ضلع میرپورخاص کے جھڈو شہر کے گرلز پرائمری اسکول پولنگ اسٹیشن سے انتخابی پرچیوں کی ایک کاپی ملی ہے۔ اسکول کی ہیڈمسٹرس تسلیم بلوچ نے اس کی اطلاع پولیس کو دی۔ جھڈو پولیس کے اے ایس آئی اللہ بخش کے مطابق یہ انتخابی پرچیاں ناظم اور نائب ناظم کے امیدوار کی ہیں۔ اس معاملے کی رپورٹ بناکر ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسر کو بھیج دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق بیلٹ پیپرز کی گمشدگی کی کوئی بھی رپورٹ درج نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پھر یہ انتخابی پرچیاں کہاں سے آئی ہیں تو ان کا کہنا تھا یہ پرچیاں جعلی ہوسکتی ہیں۔ ان انتخابی پرچیوں کی برآمدگی سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ بیلٹ پیپرز جعلی بھی ہیں تو انتخابات سے قبل چھاپنے والوں کے پاس کہاں سے پہنچے جو انہوں نے یہ جعلی پرچیاں چھاپی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||