’شدت پسندوں کومسترد کردیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے یوم آزادی پر پر اپنے پیغامات میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں شدت پسندی اور دہشت گردی کو شکست دی جائے گی۔ ٹی وی اور ریڈیو پر اپنے خطاب میں صدر مشرف نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ان طاقتوں کو رد کر دیں جو پاکستان کو ’ تاریکی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔‘ صدر نےکہا ’ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک کو پیچھے دھکیلنے والوں کو سیاسی اور معاشرتی طور پر مسترد کر دیں کیونکہ اس قسم کے لوگ ترقی کے خلاف ہیں۔‘ اسلام آباد میں پرچم کشائی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ ہمیں دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہمارا معاشرہ نہ صرف شدت پسندی کو مسترد کرتا ہے بلکہ اس کے خلاف متحد بھی ہے۔ ’ ہم اپنی آزادی کو بچانے کی خاطر شدت پسندی کے خطرے کے خلاف جنگ لڑیں گے اور اسے ہرسطح پر شکست دیں گے۔‘ صدر مشرف کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے مخالفین کی طرف سے خطرے کی وجہ سے اس سال پاکستان میں یوم آزادی پر حفاظتی انتظامات سخت ہیں۔ لندن میں ہونے والے حالیہ حملوں کے کم از کم ایک بمبار کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اُس نے پاکستان میں ایک مدرسے میں کچھ وقت گزارا تھا۔ دوسری طرف صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز دونوں پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ اپنے خطاب میں شوکت عزیز نے مسئلہ کشمیر کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ علاقے میں دیرپا امن کے لیے اس مسئلے کا حل ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے کروز میزائل کے حالیہ تجربے کا دفاع بھی کیا۔ انہوں نے کہا ’ ہم بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے رہیں گے اور علاقے میں طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||