BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 August, 2005, 17:57 GMT 22:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپان کے ساتھ معاہدہ کی کوششیں

فائل فوٹو
جاپان میں پندرہ ہزار انڈین سوفٹ وئیر انجینیئرز کام کررہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے پیر کے روز سے شروع ہونے والے دورہ جاپان کے موقع پر دیگر معاہدوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکام انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ایک معاہدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جاپان کی وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ ہونے والے اس مجوزہ معاہدے کے تحت پاکستانی سوفٹ وئیر انجینئیرز جاپان میں کام کریں گے۔

ٹوکیو میں پاکستانی سفارت خانے میں متعین اہلکاروں کے مطابق اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے تحت سرکاری اور یونیورسٹیوں کی سطح پر کافی عرصے سے رابطے جاری ہیں۔ لیکن جاپانی زبان سے پاکستانی انجینئیرز کی ناواقفیت معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اس سلسلے میں جاپان میں پاکستانی اہلکاروں نے وہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ان افراد سے رابطے بھی کئے ہیں جو کافی عرصے سے جاپان کی آئی ٹی کی صنعت سے منسلک ہیں۔ پاکستانی اہلکاروں کی کوشش ہے کہ ان افراد کی مدد سے پاکستانی انجینئیرز کے لئے جاپانی زبان خاص طور پر آئی ٹی سے متعلق کورس مرتب کیا جاسکے۔

اس وقت جاپان میں پندرہ ہزار انڈین سوفٹ وئیر انجینئیرز ملازمت کررہے ہیں جبکہ پاکستانیوں کی کل تعداد آٹھ ہزار ہے جن میں سے تقریباً ساٹھ فیصد غیر قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ لندن میں حال میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد جاپان میں سیکورٹی کے انتظامات میں کی جانے والی سختیوں کے پیش نظر یہ غیر قانونی تارکین وطن بہت ابتر زندگی گزار رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد