پاکستان: یومِ آزادی کی تقریبات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ اب جھوٹ اور منافقت کی سیاست کا خاتمہ ہونا جانا چاہئے۔ یوم آزادی کے موقع پر کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منقعد ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آزاد ہوئے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور پوری قوم جوش وجذبے کے ساتھ جشن آزادی منا رہی ہے۔ صوبوں کی درمیان ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ دن اب دور نہیں جب ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ آٹھ بجنے سے دو منٹ قبل سائرن بجائے گئے جس سے ملک بھر میں ٹریفک رک گئی۔ ٹھیک آٹھ بجے تقریب میں وزیراعظم نے پرچم کشائی کی جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں وفاقی وزراء، قومی اسمبلی اور سنیٹ کے ممبران اور اعلی سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب ایوان صدر میں ’سلام پاکستان‘ کے حوالے سے ایک رنگارنگ تقریب منقعد کی گئی جس سے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی خطاب کیا۔ صدرنے قوم سے اپیل کی کہ وہ ملک دشمن عناصر کے سامنے ڈٹ جائیں جو پاکستان کو پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے قوم کے بوڑھوں، جوانوں اور محنت کشوں سے عہد کیا کہ وہ ملکی تعمیروترقی اور ان کی فلاح وبہبود کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ اپنی تقریر میں وزیراعظم نے جنرل مشرف کی پالیسیوں کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ صدر کی اقتصادی پالیسیوں کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔ جناب شجاعت کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کی حکومت نے صنعت، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کابینہ کے گزشتہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ کسی جسمانی معذوری کی وجہ سے مقابلے کا امتحان دینے کے اہل نہیں تھے ان کو بھی اب سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز ہونے کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پوری قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت کی بدولت جشن آزادی منا رہی ہے۔ انہوں نے قیام پاکستان کیلیے اپنی جان قربان کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور پوری قوم کو متحد ہو جانے کی تلقین کی۔ چاروں صوبائی دارلحکومت اور ملک بھر میں جشن آزادی کی تقریبات منقعد ہوئیں جن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اگرچہ کچھ ناخوشگوار مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب وفاقی دارحکومت کی سڑکوں پر گاڑیوں اور شور کرتے موٹرسائیکلوں کا جیسے ایک طوفان آ گیا۔ ان میں کچھ تو وہ لوگ تھے جو تفریح طبع کی غرض سے اپنے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کوسرکاری اور غیرسرکاری عمارات پر چراغاں دکھانے لائے تھے جبکہ بڑی تعداد غیرسنجیدہ نوجوانوں پرمشتمل تھی۔ شاید آزادی کی حقیقی روح سے بےخبر یہ نوجوان انڈین گانوں پر ناچنے، موٹرسائیکلوں پر کرتب دکھانے، لوگوں پر پٹاخے پھیکنے اور بعض جگہوں پر لڑنے جھگڑنے میں مصروف تھے۔ اسلام آباد کی پولیس جو اُس وقت سے چند گھنٹے پہلے پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کرتی خواتین پر زبردست لاٹھی چارج کرچکی تھی ان غیرسنجیدہ نوجوانوں کی نازیبا حرکات ایک خاموش تماشائی کی حیثیت سے دیکھ رہی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||