پانچ مزدوروں کی ناکام خودسوزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں یوم آزادی پر بیروزگاری اور بدحالی سے تنگ آکر پانچ مزدوروں نے خود سوزی کی کوشش کی جسے موقع پر موجود پولیس نے ناکام بنا دیا۔ اور تشدد کے بعد انہیں گرفتار کرلیا۔ دادو شگر ملز سے تعلق رکھنے والے یہ مزدور گزشتہ ایک ہفتے سے شوگر ملز کو چلانے اور واجبات ادا کرنے کے مطالبہ کے لیے بھوک ہڑتال پر تھے۔ انہوں نے چودہ اگست کو خود سوزی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے اس اعلان کی وجہ سے پریس کلب کے سامنے اتوار کی صبح سے ہی پولیس کی ایک بڑی نفری موجود تھی۔ جیسے ہی محنت کش محمد یعقوب، مٹھل،امداد، الہنواز اور بچل نے پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے ان سے پیٹرول چھین کر لاٹھیاں برسانا شروع کردیں اور تشدد کے بعد پولیس موبائل میں ڈال کر لے گئے اس دوران مزدور ہمارے مطالبات پورے کرو، دادو شگر ملز کو چلاؤ کے نعرے لگا رہے تھے۔
مزدوروں کا کہنا ہے کہ اگر شوگر ملز کو نہیں چلایا گیا تو وہ بلدیاتی انتخابات کے روز اٹھارہ اگست کو پھر خود سوزی کو کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دادو شوگر ملز گزشتہ دس سال سے بند ہے۔ حکومتی عہدیدار مختلف مواقع پر اسے چلانے کا وعدہ اور اعلان کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ مزدور رہنماؤں نے کہا کہ ان کے بعض ساتھی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج نہ کراسکے اور فوت ہو گئے۔ جب کہ باقی ملازمین بدحالی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ دادو شگر ملز ذوالفقار علی بھٹو نے سرکاری شعبے میں قائم کی تھی اور اس کی مالک سندھ حکومت ہے۔ جس نے ملز کو مالی خسارے کی وجہ سے بند کردیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||