پاکستان کو ’ایف سولہ ملیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ’مستقبل قریب‘ میں دو ایف سولہ طیارے وصول کرنے والا ہے۔ امریکہ نےمارچ میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت دوبارہ شروع کر رہا ہے۔ انیس سونوے میں امریکہ نےپاکستان پراس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے طیاروں کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ امریکہ کے ساتھ ہونے والی اس ڈیل کو امریکہ کی طرف سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کی مدد کا انعام سمجھا جا رہا ہے۔ بھارت نے اس ڈیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقے میں طاقت کا توازن بگڑ جائےگا۔ پابندی لگنے سے پہلے پاکستان تیس ایف سولہ طیارے حاصل کر چکا تھا۔ پاکستان کے روزنامے ’ڈان‘ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی کانگریس اگلےماہ اس سودے کی حمایت کرے گی تا کہ پاکستان کو یہ طیارے اکتوبر تک مل جائیں۔ پاکستان ائر فورس کے سربراہ ائر کموڈور سرفراز احمد خان نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو یہ طیارے ’نہایت معمولی‘ قیمت پر دیے جا رہے ہیں۔
ائر فورس کے سربراہ نے مزید کہا کہ نئے ایف سولہ طیارے خریدنے کے لیے بات چیت اب بھی جاری ہے اور اُن کی تعداد اور وصولی کی تاریخ کے بارے میں فیصلہ بعد میں ہو گا۔ چند اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان دو کروڑ پچیس لاکھ ڈالر فی طیارہ کی قیمت پر پچیس طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ اس سال مارچ میں صدر مشرف نے کہا تھا کہ پاکستان اُتنے طیارے لےگا جتننی اس کے پاس استطاعت ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اس کے تھوڑے عرصے بعد پاکستان پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔ دوسری جانب بھارت نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے طاقت کا توازن خراب ہو گا اور پاکستان کے ساتھ اُس کے امن مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||