F16 : متعلقات و آلات کی درخواست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جدید ترین ایف سولہ طیاروں، راڈار اور میزائلوں سمیت مطلوبہ دفاعی آلات کی فہرست امریکہ کے حوالے کردی ہے اور جلد سے جلد ان کی فراہمی یقینی بنانے کی درخواست بھی کی ہے۔ یہ فہرست جمعرات کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکہ کی ’ڈیفینس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی‘ کے پانچ رکنی وفد سے ملاقات کے دوران دی گئی۔ یہ ملاقات امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے محض ایک دن بعد ہوئی ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وفد کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری بی کوہل نے پاکستانی وفد کو بتایا کہ وہ متعلقہ امریکی حکام کو مطلوبہ آلات کی جلد فراہمی کی پاکستان کی خواہش سے آگاہ کریں گے۔ تاہم انہوں نے اس کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ اس ضمن میں دفاعی پیداوار کے سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل( ر) علی محمد جان اورکزئی سے جب پوچھا تو انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ جلد مطلوبہ آلات پاکستان کو مل جائیں گے۔ ایف سولہ طیاروں کی تعداد سمیت مطلوبہ دفاعی آلات کی تفصیلات اور لاگت کے بارے میں معلومات دینے سے انہوں نے انکار کیا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے امریکہ سے دفاعی آلات کی قیمتیں کم کرنے پر بات کی ہے۔ مہمان وفد نے راولپنڈی میں وزارت دفاع کے سیکریٹری، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق وسیم غازی سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون وسیع کرنے کی مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ پاکستان میں دفاعی خریداری کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل سید حیدر جاوید نے امریکی وفد کو پاکستان کی دفاعی ضروریات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو فوری فراہمی کے لیے جن آلات کی فہرست پیش کی ہے اس میں ایمرام میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ایف سولہ طیارے،C-130، AIM -9-M میزائیل، TOW-II میزائیل، Howitzer 155-MM اور TPS-77 راڈار شامل ہیں۔ دفاعی پیداورا کے سیکریٹری نے اس موقع پر مہمان وفد سے کہا کہ پاکستان کو ’نان نیٹو‘ اتحادی کی حیثیت سے فوائد، دفاعی آلات کی جلد فراہمی کی صورت میں نظر آنے چاہیے۔ ملاقات کے دوران اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر ریان سی کروکر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں افواج کی تعلیم و تربیت اور مشترکہ کورسز کے بارے میں مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور امریکی وفد نے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||