امریکہ مخالف، برطانیہ حامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خدشات کے باوجود برطانیہ نے ایران پاکستان اور بھارت کے مابین گیس پائپ لان کے منصوبے کی حمایت کی ہے اور اس منصوبے کو علاقے کے لیے بہتر قرار دیا ہے۔ برطانیہ کے ہائی کمشنر مارک لیال گرانٹ یہاں بلوچستان اکنامک فورم کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس تقریب کا موضوع تھا پاک برطانیہ تعلقات خصوصاً بلوچستان کے تناظر میں اور اس تقریب سے ماہرین معاشیات اور سیاستدانوں نے خطاب کیا ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ایران کے پاس گیس موجود ہے جبکہ بھارت اور پاکستان کو گیس کی ضرورت ہو جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس معاہدے سے علاقے میں تینوں ملکوں کے مابین تعلقات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی بہتری کا جو عمل شروع ہوا ہے وہ کافی حوصلہ افزا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے اس منصوبے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ برطانیہ کی اسی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے جو پاکستان میں بیرونی حوالے سے سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسی طرح کئی کمپنیوں نے بلوچستان میں مائینگ اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کر رکھی ہے۔امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں اور خصوصاً بلوچستان کے کچھ اضلاع میں حالات زیادہ بہتر نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود جو کمپنیاں کام کر رہی ہیں اچھا کاروبار کر رہی ہیں۔ اس تقریب سے سابق وزیر اعلی بلوچستان جان محمد جمالی فورم کے صدر سردار شوکت پوپلزیی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں سرمایہ کاری کو سود مند قرار دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||