BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 June, 2005, 23:16 GMT 04:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیزل پائپ لائن سے مشروط نہیں‘

News image
بھارتی وزیر اتوار کو اسلام آباد میں اپنے ہم منصب امان اللہ جدون سے مذاکرات کریں گے
بھارت کے وزیر پٹرولیم منی شنکر آئر نے سنیچر کے روز لاہور پہنچنے پر کہا ہے کہ وہ پاکستانی ہم منصب سے ایران اور دوسرے وسط ایشیائی ملکوں سے پاکستان کے ساتھ مل کر گیس پائپ لائنیں بچھانے اور پاکستان کو بھارت سے ڈیزل برآمد کرنے پر بات چیت کریں گے۔

وہ اتوار کو اسلام آباد میں اپنے ہم منصب امان اللہ جدون سے مذاکرات کریں گے اور صدر پرویزمشرف اور دوسرے رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران سے پاکستان کے راستے گیس پائپ لائن بچھانے کےمعاملہ کو بھارت کے ساتھ سیکرٹری آف اسٹیٹ کی سطح پر نہیں اٹھایا بلکہ امریکی سفیر نے ان سے ملاقات میں اس کا سرسری انداز میں امریکی تحفظات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے ان سے کہا کہ انہیں ان تحفظات کا علم ہے اور امریکہ کوبھی بھارت کی ضرویات کا علم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ایران سے گیس پائپ لائن لانے پر پاکستان سے بات چیت جاری رکھے گا۔

منی شنکر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مذاکرات میں گیس پائپ لائن کے تحفظ کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا اور بھارت کو علم ہے کہ پاکستان حکومت نے بار بار یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس ضمن میں بھارت کے خدشات کو دور کرے گا۔

منی شنکر نے کہا کہ پائپ لائن بچھانے کا معاملہ کسی اورچیز سے مشروط نہیں ہے بلکہ اس بات پر فیصلہ کرتے ہوئے کچھ باتیں بھی ذہن میں رکھی جائیں گی۔

منی شنکر آئر نے ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) کی جانب سے دیے گئے ایک استبالیہ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کے درمیان فضا اتنی بہتر ہوگئی ہے کہ اب دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائنیں بچھانے پر سنجیدہ بات چیت کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس پائپ لائنوں کے معاملہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان پھیلتے ہوئے تجارتی اور معاشی تعلقات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا جس کا ذکر پاکستانی صدر جنرل پرویزمشرف اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی نیو یارک کی ملاقات کے بعد ان کے اعلامیہ میں کیا گیا تھا۔

منی شنکر آئر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں بھارت کے تئیس وزیر اور سیکرٹری سطح کے گیارہ لوگ پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور جب اتنی بات چیت ہو اور بھائی چارہ ہو تو لازمی ہے کہ ماحول بھی بہتر ہوتا ہے۔

منی شنکر آئر نے کہا کہ اگلے بیس سال میں بھارت میں گیس کی ضروریات اتنی بڑھ جائیں گی کہ انہیں ملکی وسائل اور قطر سے لائی جانے والی ایل پی جی گیس سے پورا نہیں کیا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں گیس توانائی کی کُل ضروریات کا صرف سات فیصد قدرتی گیس سے پورا کیا جاتا ہے اور اس کی کل مانگ ستر ملین اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر فی یوم ہے اور بیس سال بعد سالانہ آٹھ فیصد اضافہ سے یہ ضروریات چار سو ملین کیوبک میٹرفی یوم ہوجائے گی۔

بھارت کے وزیر پٹرولیم نے کہا پاکستان اس وقت اپنی توانائی کی کل ضروریات کا پچاس فیصد قدرتی گیس سے پورا کررہا ہے اور بیس سال بعد اس کی ضرورت بھی اتنی بڑھ جائےگی کہ ملکی وسائل کے علاوہ اسے باہر سے گیس منگوانا پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے دونوں ملک اس شعبہ میں تعاون کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی دلچسپی ہےکہ اپنے خطہ کے قریبی ملکوں میں گیس حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

بھارت کے وزیر نے کہا کہ ایران میں دنیاکے دوسرے بڑے گیس کے ذخائر ہیں اورقازقستان بھی گیس سے بھرا ہوا ہے اس کے علاوہ ترکمانستان میں بھی گیس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آذربائجان سے تیل تو مل رہا ہے اور گیس نکلنےکے امکانات بھی ہیں۔ وہ پاکستان سے آذربائجان روانہ ہوں گے۔

منی شنکر نے کہا کہ وسط ایشیا کے ملکوں سے گیس پائپ لائنیں بچھانے کے معاملہ پر بھی موجودہ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ہوگی لیکن اسے ایران سے گیس لانے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ سب مل کر ہماری ضرورت کو پورا کریں گی۔

منی شنکر نے کہا کہ اگر بھارت اور پاکستان اس معاملہ پر تعاون کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تاریخ ساز بات ہوگی اور یہ تعاون ہائیڈروکاربن وسائل (پٹرولیم مصنوعات) کے دوسرے شعبوں تک بڑھے گا۔

منی شنکر نے کہا کہ وہ پائپ لائنوں کے علاوہ پاکستان کے ساتھ ڈیزل کی تجارت کےمعاملہ پر بھی بات چیت کریں گے کیونکہ پاکستان کویت سے ڈیزل کراچی لاتا ہے اور پھر ملک کے شمالی علاقوں میں لے جاتا ہے جو مہنگا پڑتا ہے جبکہ بھارت اسے بھٹنڈا، پانی پت اور جام نگر سے ڈیزل مہیا کرسکتا ہے اورپہلے یہ کام اگر ٹینکروں کے ذریعے شروع ہوجائے اور چلتا رہے تو پائپ لائن بچھانے پر بات ہوسکتی ہے۔

منی شنکر نے کہا کہ بھارت ڈیزل پاکستان کو برآمد کرنے کی بات گیس پائپ لائنوں کی بات چیت سے مشروط نہیں کرے گا۔ یہ دونوں الگ الگ معاملے ہیں۔

بھارت کے وزیر پٹرولیم نے کہا کہ مشرق وسطی سے نکلنے والےتیل کے دو تہائی کی کھپت ایشیا کے ملکوں میں ہے اور پاکستان اور بھارت کا اس شعبہ میں تعاون ایشیا میں توانائی کے گرڈ کے قیام کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

منی شنکر آئر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کچھ معاملات جیسے کشن گنگا ڈیم اور بھگلیہار ڈیم پر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں تعطل آیا لیکن یہ بات بھی ہے کہ یہ تعطل اس لیے آیا کہ دونو ں ملک بات چیت کرتے رہے جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مایوس ہونا غلطی ہوگی کیونکہ یہ پیچیدہ مسائل ہیں اور ان کا حل نکلنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک بہت راستے طے کرچکے ہیں اور باقی راستہ بھی طے کرنے میں زیادہ مشکل نہیں آئے گی۔

منی شنکر آئر آج واہگہ کے راستے اپنی بیوی، دو بچوں، بہن اور دوسرے رشتے داروں کے ساتھ لاہور پہنچے۔ وہ پاکستان بننے سے پہلے لاہورمیں پیدا ہوئے تھے اور وہ آج شام ہال روڈ کے ساتھ واقع اپنے آبائی گھر لکشمی مینشن میں وہاں کے موجودہ رہائشیوں کی طرف سے ایک استقبالیہ میں بھی شرکت کریں گے۔ اس جگہ پر سابق وزیراعظم معراج خالد اور سعادت حسن منٹو بھی رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد