BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 June, 2005, 02:44 GMT 07:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران گیس پائپ پر امریکہ ناراض

کونڈولیزا رائس، خورشید محمود قصوری
امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھارت کے حالیہ دورے کے گیس پائپ لائن منصوبے امریکی تحفظات کا کھلے عام ذکر کیا تھا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ ان کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات انتہائی کامیاب رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں صدر بش، امریکی وزیر خارجہ کانڈالیزا رائس اور دوسرے اعلی امریکی حکام سے گفت وشنید کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انکے کہنے کے مطابق مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ کی توسیع، پاکستان کی دفاعی ضروریات اور گیس پائپ لائن جیسے مسائل زیر بحث لائے گئے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس کے ساتھ گفت و شنید میں خود ہی گیس پائپ لائن کا مسئلہ اٹھایا اور امریکہ کو بتایا کہ پاکستان جس رفتار سے ترقی کر رہا ہے اس کی توانائی کی ضروریات کے لیے ایران، پاکستان بھارت گیس پائپ لائن شدید ضروری ہے۔ انہوں نے امریکی رد عمل پر روشنی ڈالنے سے احتراز کیا۔

لیکن دوسرے باوثوق سفارتی حلقوں نے بتایا ہے کہ کانڈولیزا رائس سے ملاقات میں امریکیوں نے اس گیس پائپ لائن پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور امریکی تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔

امریکیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کانگرس کا منظور کردہ ایک قانون ہے جو کہ لیبیا اورایران پر پابندیاں لگانے کا قانون کہلاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق جو کوئی بھی ایران کے گیس اور پٹرول سیکٹر میں چالیس ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا اس پر معاشی پابندیاں لگانا لازم ہوگا۔ صرف امریکی صدر ہی ان پابندیوں سے کسی کو مستثنی قرار دے سکتا ہے۔

کانڈولیزا رائس سے ملاقات سے پیشتر پاکستانی سفارت کاروں نے جو دلیل اس قانون کے خلاف بنائی تھی اس کے مطابق پاکستان ایران میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا بلکہ وہ ایران کے بارڈر سے گیس خرید رہا ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں جو سرمایہ کاری ہوگی اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بظاہر امریکیوں نے یہ دلیل ماننے سے انکار کر دیا ہے اور معاملہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس نے پاک بھارت دورے کے وقت چھوڑا تھا۔

خورشید قصوری نے اقوام متحدہ کی توسیع کے بارے میں کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی متفقہ رائے ہے کہ اقوام متحدہ میں شدید اصلاحات کی ضرورت ہے اور سلامتی کونسل میں توسیع جلد بازی میں نہیں کی جانی چاہیے۔

پاکستان اور کچھ اور ملکوں کا نقطہ نظر ہے کہ ان کے حریف ملکوں کو مستقل طاقت مل جائے گی جس کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ بظاہر امریکہ ہندوستان کی سلامتی کونسل کی سیٹ کے لئے ایران گیس پائپ لائن کو بھی استعمال کر رہا ہے۔

جناب قصوری کا کہنا تھا کہ امریکہ پاک بھارت تعلقات میں پیشرفت اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں پر مطمئن ہے اور ہر طرح سے پاکستان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کچھ ایسے اشارے بھی کئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا موجودہ دورہ واشنگٹن مسئلہ کشمیر سے متعلقہ تجاویز سے تعلق رکھتا تھا۔

انکی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس سلسلے میں کچھ ایسی تجاویز ہیں جن میں امریکہ کی شراکت اور مدد درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔

جناب قصوری نے اپنے دورہ واشنگٹن میں صدر بش سے ملاقات کرنے کے علاوہ ، وزیر خارجہ کانڈا لیزا رائس، نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ سٹیفن ہیڈلی سے ملاقاتیں کیں۔

وہ سینیٹ اور کانگرس کے رہنماؤں سے بھی ملے اور انہوں نے بروکنگ انسٹیٹیوٹ میں خطاب بھی کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی سفارتی حلقے صدر بش سے آدھے گھنٹے کی ملاقات کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بش پہلی مرتبہ پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ کھل کر بات کر رہے تھے۔ حلقوں نے یہ بھی بتایا صدر بش نے جنرل مشرف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی قوم کی صحیح رہنمائی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد